گذشتہ سال کے بہ نسبت 9 ہزار کروڑ روپئے کی کمی ، ششماہی رپورٹ میں انکشاف
گذشتہ سال 14 ہزار کروڑ روپئے ، جاریہ سال 26 ہزار کروڑ روپئے قرض حاصل کیا گیا
حیدرآباد :۔ ان لاک کے بعد ریاست کی آمدنی میں اضافہ تو ہورہا ہے مگر یہ رفتار توقع کے مطابق نہیں ہے ۔ مالیاتی سال کے پہلے نصف حصہ میں اندازے کے مطابق تقریبا 20 ہزار کروڑ روپئے کی کٹوتی ہوئی ہے ۔ محکمہ فینانس کی جانب سے اندازہ لگایا جارہا ہے کہ مستقبل میں بھی یہی صورتحال رہے گی ۔ گذشتہ مالیاتی سال 2019-20 کے پہلے 6 ماہ کی آمدنی کا جائزہ لیں تو موجودہ آمدنی کم ہے ۔ کورونا بحران کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں تعطل کا شکار ہوگئیں ۔ عوام گھروں تک محدود ہوگئے تھے ۔ جس کی وجہ سے اپریل اور مئی کی آمدنی گھٹ گئی تھی ۔ مرحلہ واری اساس پر لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کے باوجود آمدنی کی رفتار میں اضافہ نہیں ہوا ۔ اپریل میں 1700 ، مئی میں 3682 کروڑ آمدنی ہوئی ۔ اس کے بعد بڑھتے ہوئے جون میں 6510 کروڑ ، جولائی میں 6588 کروڑ ، اگست میں 6677 کروڑ ، ستمبر میں 6599 تک پہونچ گئی ۔ مگر یہ آمدنی توقع کے مطابق نہیں ہے ۔ سال 2019-20 کے دوران پہلے چھ ماہ میں ٹیکس ریونیو کی شکل میں 38,774 کروڑ روپئے وصول ہوئے ، غیر ٹیکس آمدنی بھی کم ہے ۔ گذشتہ سال پہلے چھ ماہ کے دوران 2,204 کروڑ روپئے وصول ہوئے ۔ جاریہ سال 1,542 کروڑ روپئے ہی وصول ہوئے ۔ مرکزی حکومت سے گرانٹ ان ایڈ کے معاملے میں کچھ بہتری آئی ہے ۔ مالیاتی سال 2019-20 کے پہلے چھ ماہ میں 4515 کروڑ روپئے وصول ہوئے جاریہ سال 4649 کروڑ روپئے وصول ہوئے ۔ ریاست تلنگانہ کو قرض پہ انحصار کرنے کے علاوہ دوسرا اور کوئی راستہ نہیں ہے ۔ توقع کے مطابق آمدنی حاصل نہ ہونے پر ریاستی حکومت نے قرضوں پر ہی زیادہ انحصار کیا ہے ۔ مالیاتی سال 2019-20 کے پہلے 6 ماہ کے دوران 14,704 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا گیا ۔ جاریہ سال 25,989 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا گیا ۔ جس میں اوپن مارکٹ میں بانڈس کی فروختگی اور دوسرے مالیاتی اداروں سے بھی قرض حاصل کیا گیا ہے ۔ لاک ڈاؤن نافذ ہونے کے بعد آمدنی بری طرح متاثر ہوئی ۔ اپریل اور مئی میں زیادہ قرض حاصل کیا گیا ۔ جاریہ سال ریاست کا مجموعی بجٹ 1.82 لاکھ کروڑ پر مشتمل پیش کیا گیا ۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر تخمینہ پر توقع کے مطابق اترنا ناممکن ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے بجٹ کا جائزہ لینے کا عہدیداروں کو مشورہ دیا۔ جس میں عہدیدار مصروف ہیں ۔۔