اوقافی اراضیات کا تحفظ اور ترقی دینے پر زور

   

ارکان اسمبلی کے مانک راؤ اور ایم بھوپال ریڈی کی صدر نشین وقف بورڈ سے نمائندگی
حیدرآباد۔10 ۔اگسٹ(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے حلقہ جات اسمبلی نارائن کھیڑ و ظہیر آباد میں موجود اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور ان کی ترقی کے اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا اور اس سلسلہ میں متعلقہ ارکان اسمبلی اور حکومت سے تجاویز وصول کرتے ہوئے بورڈ کی منظوری کے ساتھ ترقی کے اقدامات کئے جائیں گے۔ جناب محمد مسیح اللہ خان صدرنشین وقف بورڈ نے دونوں حلقہ جات اسمبلی کے ارکان اسمبلی کو تیقن دیا کہ ان کے حلقہ اسمبلی موجود اوقافی جائیدادو کو قابل استعمال بناتے ہوئے ان کے تحفظ کے اقدامات کئے جائیں گے اور جن اوقافی اراضیات پر ناجائز قبضہ جات ہیں انہیں برخواست کروانے کے لئے متعلقہ حکام سے نمائندگی کرتے ہوئے کاروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی رکن اسمبلی ظہیر آباد مسٹر کے مانک راؤ اور نارائن کھیڑرکن اسمبلی مسٹر ایم بھوپال ریڈی نے وقف بورڈ کے دفتر واقع حج ہاؤز پہنچ کر صدرنشین جناب محمد مسیح اللہ خان سے ملاقات کرتے ہوئے ان کے حلقہ جات اسمبلی میں موجود اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور ان کی ترقی کے سلسلہ میں اقدامات کے لئے نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حلقہ میں موجود اوقافی اراضیات کے تحفظ کے لئے وہ مسلسل نمائندگی کرتے آرہے ہیں لیکن وقف بورڈ کی جانب سے ان نمائندگیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ناجائز قابضین کو اوقافی جائیدادوں پر قبضوں کی راہ ہموار کی جا رہی ہے جو کہ افسوسناک ہے۔ ارکان اسمبلی نے صدرنشین وقف بورڈ سے کی گئی نمائندگی میں دونوں حلقہ جات اسمبلی موجود اوقافی جائیدادوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے تحفظ اور تجارتی علاقوں میں موجود جائیدادوں کو ترقی دینے کا منصوبہ تیار کرنے کا مشورہ دیا اور ان سے اپیل کی کہ وہ ان کے حلقہ جات سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی ترقی و فلاح و بہبود کے منصوبہ کو تیار کریں ۔ صدرنشین وقف بور ڈ نے ارکان اسمبلی کو مشورہ دیا کہ وہ اوقافی اراضیات پر ترقیاتی اقدامات اور وقف کامپلکس کی تعمیر کے سلسلہ میں تجاویز وقف بورڈ کو روانہ کریں تاکہ وقف بورڈ ان تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد اس پر قطعی فیصلہ کرسکے۔جناب محمد مسیح اللہ خان نے دونوں ارکان اسمبلی سے خواہش کی کہ وہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور ان کی ترقی کے سلسلہ میں تیار کئے جانے والے منصوبہ میں تجاویز کے ساتھ ساتھ تعاون بھی کریں تاکہ وقف بورڈ کے اثاثہ جات میں اضافہ ہو اور اراضیات کا تحفظ کیا جاسکے۔م