مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض چکائے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے
ملک میں الیکشن کمیشن کی جانب سے من مانی فیصلے اور چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے ساتھی الیکشن کمشنران کو نظر انداز کرنے کے انکشاف کے بعد سیاسی ماحول بہت زیادہ گرم ہوگیا ہے ۔ الیکشن کمیشن میں جاری مبینہ بد عنوانیوں اور حکومت کی مدد کے اقدامات پر سارے ملک میں شدید غم و غصہ پیدا ہوگیا ہے اور عوام میں ناراضگی اور بے چینی پیدا ہوگئی ہے ۔ لوگ احتجاج کا راستہ اختیار کرنے لگے ہیں۔ کانگریس کی جانب سے بھی ملک کے کئی شہروں میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج شروع کردیا گیا ہے اور مظاہرے کئے جا رہے ہیں۔ سی جے پی کی جانب سے بھی احتجاج کا انتباہ جاری کیا گیا ہے ۔ کئی گوشوں کی جانب سے گیانیش کمار کی برطرفی اور گرفتاری اور ان کے خلاف مقدمات چلانے کے مطالبات بھی شروع ہوگئے ہیں۔ کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی ‘ وزیر داخلہ امیت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’ دیش دروہی ‘ تک قرار دید یا ہے اور ان کے خلاف وقت آنے پر تحقیقات کروانے کا بھی اعلان کردیا ہے ۔ سارے ملک میں اب الیکشن کمشن کے طرز کارکردگی پر ہی مباحث ہو رہے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہوگیا ہے کہ ملک کی تمام اپوزیشن جماعتیں اس موقع پر متحد ہوجائیں ۔ تمام جماعتیں مل بیٹھ کر ایک مشترکہ حکمت عملی تیار کریں۔ اس مسئلہ کو ملک کے نوجوانوں تک پہونچائیں کیونکہ جو اقدامات کمیشن کی جانب سے کئے گئے ہیں ان میں 18 سال عمر کی تکمیل کرنے والے نوجوانوں ہی کو بطور ووٹر درج کرنے کا عمل مشکل کردیا گیا ہے ۔ ملک میں مختلف گوشوں سے اب تک کئے گئے ایس آئی آر کے عمل کو ہی برخواست کردینے کے مطالبات بھی ہور ہے ہیں اور شدید برہمی و ناراضگی کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ ایسے میں اگر اپوزیشن جماعتیں متحد ہوجائیں اور اس مہم کو مزید شدت فراہم کریں تو یہ مہم نتیجہ خیز بھی ہوسکتی ہے ۔ مکمل غور و خوض کے بعد سارے ملک میں عوامی تحریک شروع کی جانی چاہئے ۔
کانگریس لیڈر راہول گاندھی کی جانب سے ملک میں سب سے پہلے ووٹ چوری کا انکشاف کیا گیا تھا ۔ وہ لگاتار اس تعلق سے دعوے کرتے رہے ہیں اور اپنی جانب سے کئی مواقع پر ثبوت و شواہد پیش کئے ہیں۔ الیکشن کمیشن سے اور حکومت سے انہوں نے اس تعلق سے کئی سوال بھی کئے ہیں لیکن آج تک کسی سوال کا جواب نہیں دیا گیا ہے ۔ اب میڈیا کی جانب سے سنسنی خیز حقائق کو سامنے لایا گیا ہے ۔ یہ شبہات بھی ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ ایس آئی آر کے عمل پر بھی کمیشن میں اتفاق رائے نہیں تھا اور چیف الیکشن کمشنر اپنے دو ساتھی الیکشن کمشنرس کے اعتراضات اور تحفظات کو مسلسل نظر انداز کرر ہے ہیں۔ تحریری شکایات کو بھی انہوں نے خاطر میں نہیں لیا اور کئی فیصلے ان دونوں کی علم و اطلاع کے بغیر بھی کئے گئے ہیں۔ یہ ساری صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ ساری اپوزیشن جماعتیں اپنے اپنے طور پر سرگرم ہوجائیں ۔ تمام جماعتیں مشترکہ حکمت عملی بھی بنائیں ۔ ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے عوام سے رجوع ہوں۔ اس مسئلہ کو ملک کا سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ بنا کر پیش کیا جائے ۔ نوجوانوں میں اس تعلق سے شعور بیدار کیا جائے ۔ ملک کے ہر شہر اور ہر ضلع میں اس پر احتجاج کیا جانا چاہئے ۔ عوام کو اس بات سے واقف کروانا چاہئے کہ کس طرح سے ملک میں ووٹ چوری ہو رہی ہے اور اس کے ذریعہ حکومتیں بنائی جا رہی ہیں اور کمیشن غیر جانبداری سے کام کرنے کی بجائے محض ایک رخی راستہ اختیار کیا ہوا ہے اور حکومت کو فائدہ پہونچانے پر مصر ہے ۔
الیکشن کمیشن پر جو الزامات عائد کئے جا رہے ہیںا گر وہ درست ہیں تو یہ جمہوریت کا قتل کرنے کے مترادف ہے ۔ ہندوستان کی جمہوریت کو کھوکھلا کیا گیا ہے اور اس کے خلاف جہدو کرنا اپوزیشن کی ذمہ داری بنتی ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کو جلد حرکت میں آنا چاہئے ۔ ایک مشترکہ اجلاس طلب کرتے ہوئے ساری صورتحال پر غور کرنے اور احتجاجی اور عوامی لائحہ عمل کو تیار کرنا چاہئے ۔ الیکشن کمیشن سے سر عام سوال پوچھے جانے چاہئیں اور ان کے جواب ملنے تک خاموش نہیں رہنا چاہئے ۔ یہ کوئی سیاسی لڑائی نہیں بلکہ ملک کی جمہوریت کو بچانے اور اس کو برقرار رکھنے کی جدوجہد ہے ۔
بہار میں خواتین غیر محفوظ ؟
بہار میں آئے دن خواتین پر حملوں اور ان کے ساتھ زیادتی کے واقعات پیش آتے چلے جا رہے ہیں۔ گذشتہ چند دنوں میں تین تا چار واقعات پیش آئے ہیں جن میں سر عام خواتین پر حملے کئے گئے ہیں۔ ان کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے اور دست درازیاں بھی ہوئی ہیں۔ ریاست میں بی جے پی اور جے ڈی یو کی حکومت ہے ۔ ان دونوں پارٹیوں نے جنگل راج ختم کرنے کے وعدہ پر دو دہے قبل اقتدار حاصل کیا تھا تاہم ایسا لگ رہا ہے کہ دو دہوں میں جنگل راج ختم نہیں ہوا بلکہ بی جے پی کے پہلی مرتبہ اقتدار سنبھالنے کے بعد اس میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ بیٹی بچاؤ ۔ بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ دینے والی بی جے پی کے اقتدار میں خواتین بالکل غیر محفوظ ہو کر رہ گئی ہیں اور ان کو سر عام حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ یہ بی جے پی حکومت کی نا اہلی کا ثبوت ہے ۔ بہار حکومت کو اس طرح کے معاملات کا نوٹ لینے اور سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ خواتین کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے اور تاحال بہار کی حکومت ایسا کرنے میں ناکام ہی نظر آئی ہے ۔