سپریم کورٹ میںسدرشن ٹی وی کے سریش چوانکے کے وکیل کا استفسار ۔ عدالت نے تازہ شواہد پیش کرنے کی اجازت دی
اکبر اویسی کو گھیرنے سدرشن ٹی وی کے وکیل کی کوشش
ایس ایم بلال
حیدرآباد 13 جنوری : ملک بھر میں نفرت انگیز تقاریر اور بیانات سے متعلق نظرثانی کے تحت داخل کی گئی درخواستوں کی سماعت آج سپریم کورٹ میں ہوئی۔ جمعہ کو عدالت العالیہ میں ہردوار دھرم سنسد اور ملک بھر کے دیگر نفرت انگیز تقاریر و معاملات سے متعلق درخواست کی بیک وقت سماعت کی گئی۔ سدرشن ٹی وی چیانل پر یو پی ایس سی جہاد کے عنوان سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز خبریں اور اِس چیانل کے ایڈیٹر سریش چوانکے کے مبینہ اشتعال انگیز بیانات نشر کئے گئے جس کے خلاف درخواستیں سپریم کورٹ میں داخل کی گئی تھیں۔ سماعت کے دوران سدرشن نیوز ٹی وی چیانل کے ایڈیٹر اِن چیف سریش چوانکے کے وکیل نے عدالت میں اپنا استدلال پیش کیاکہ نفرت انگیز تقاریر میں ملوث مجلس کے رکن اسمبلی اکبرالدین اویسی اور مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائک کے خلاف ہنوز ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔ سریش چوانکے کے وکیل وشنو شنکر جین نے سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ جسٹس کے ایم جوزف اور جسٹس بی وی ناگارتنا کے اجلاس پر اپنی بحث کے دوران یہ بتایا کہ صرف اُن کے ہی موکل سریش چوانکے کے خلاف ہی کیوں کارروائی کی گئی جبکہ مذکورہ افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ ایڈوکیٹ وشنو شنکر جین نے سپریم کورٹ سے واضح طور پر یہ کہاکہ مجلسی رکن اسمبلی اکبرالدین اویسی نے 2013 ء میں اشتعال انگیز تقریر کی تھی جس میں یہ کہا تھا کہ ہندو مذہب کو ماننے والے 100 کروڑ کی آبادی ہے اور مسلمانوں کی آبادی 25 کروڑ ہے۔ اگر 15 منٹ کیلئے پولیس ہٹادی جائے تو پھر اُس کے نتائج بالکل مختلف ہوں گے۔ سریش چوانکے کے وکیل نے عدالت سے مزید کہاکہ نفرت انگیز تقاریر کے معاملہ میں اکبرالدین اویسی ایک عادی ملزم ہیں اور اُن کے مقدمات کی ازسرنو تحقیقات کی جائے ۔ چوانکے کے وکیل کی اِس بحث کے بعد جسٹس کے ایم جوزف نے کہاکہ اِس سلسلہ میں مقدمات بند ہوچکے ہیں جس پر وکیل شنکر جین نے عدالت میں استدلال پیش کیاکہ مقدمات بند ہونے کے باوجود بھی سپریم کورٹ کو آرٹیکل 142 کے تحت یہ اختیار ہے کہ مقدمات کو دوبارہ کھولا جاسکتا ہے۔ سدرشن ٹی وی چیانل کے وکیل نے سپریم کورٹ سے کہاکہ اُن کے پاس مذکورہ افراد کے خلاف تازہ ترین شواہد ہیں اور وہ اس سلسلہ میں یو ٹیوب لنکس وغیرہ عدالت میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اِس بحث کے بعد جسٹس کے ایم جوزف نے یہ کہاکہ سریش چوانکے کی جانب سے داخل کی گئی آئی اے درخواست 2013 ء میں داخل کی گئی ہیں لیکن جج نے ایڈوکیٹ وشنو شنکر جین کو یہ اجازت دی کہ وہ تازہ اس سلسلہ میں Interlocutory application (IA) درخواست داخل کرتے ہوئے عدالت کو مزید حقائق سے واقف کرواسکتے ہیں۔