اگنی ویر اسکیم میں بار بار تبدیلی نوجوانوں اور قومی سلامتی سے کھلواڑ :کانگریس

   

تینوں افواج میں 1,55,000 عہدے خالی، دیگر فورسیس میں بھی ایک لاکھ عہدوں کا مخلوعہ رہنا قومی سلامتی کیلئے خطرہ

نئی دہلی، 05 نومبر (یواین آئی) کانگریس کے جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ رندیپ سنگھ سرجے والا نے اگنی ویر اسکیم میں مرکزی حکومت کی جانب سے کی گئی تبدیلیوں پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت ملک کی خدمت کے لیے فوج میں بھرتی ہونے کے خواہش مند نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ بار بار کھلواڑ کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگنی ویر اسکیم میں چوتھی بار تبدیلی کرکے حکومت نے نوجوانوں کے درمیان الجھن اور غیر یقینی کی صورت حال پیدا کر دی ہے ، جو قومی سلامتی کے نقطئہ نظر سے بھی تشویش ناک ہے ۔ سرجے والا نے کہا کہ جو حکومت فوج میں بھرتی کے معاملے میں واضح اور مستقل فیصلہ نہیں کر سکتی، اس سے قومی سلامتی یقینی بنانے کی امید کیسے کی جا سکتی ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک طرف چین نے مشرقی لداخ میں ہندوستان کی تقریباً ایک ہزار مربع کلومیٹر زمین پر قبضہ کر رکھا ہے ، تو دوسری طرف آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں حقیقی کنٹرول لائن پر چینی فوج کے ساتھ تصادم کی بات کہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تینوں افواج میں ایک لاکھ 55 ہزار سے زیادہ عہدے خالی ہیں، جبکہ مرکزی ریزرو پولیس فورس، بارڈر سکیورٹی فورس، مرکزی صنعتی سلامتی فورس اور انڈو تبت بارڈر پولیس سمیت مرکزی مسلح پولیس فورسز میں بھی ایک لاکھ سے زیادہ عہدے خالی ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورت حال قومی سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے ۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے 2021 سے فوج میں باقاعدہ بھرتی روک کر چار سالہ اگنی ویر بھرتی کا نظام شروع کیا۔ مخالفت بڑھنے پر 25 فیصد اگنی ویروں کو مستقل کرنے اور ریاستی حکومتوں کی بھرتیوں میں ترجیح دینے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ اب کابینہ نے چار سالہ سروس میں دو سال کی توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے بعد مستقل بھرتی پر غور کرنے کی بات کہی جا رہی ہے ۔ سرجے والا نے کہا کہ چار یا چھ سال کی سروس کے بعد مستقل تقرری ملے گی یا نہیں، اس غیر یقینی صورت حال میں جوانوں کو رکھنا ان کے حوصلے کے ساتھ کھلواڑ ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ مستقبل کے بارے میں مسلسل تذبذب کا شکار رہنے والے نوجوان پوری یکسوئی اور لگن کے ساتھ ملک کی خدمت کیسے کر سکیں گے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگنی ویر کی عارضی بھرتی کا نظام ختم کرکے فوج میں باقاعدہ بھرتی بحال کی جائے۔
اس کے ساتھ ہی مودی حکومت کو بڑے بڑے دعووں اور خوش نما الفاظ کے بجائے نوجوانوں اور قومی سلامتی کے مفاد میں ٹھوس اور مستقل فیصلے کرنے چاہئیں۔