حیدرآباد میں پانی کی شدید قلت
ایل نینو کے اثرات سے بارش میں کمی، حکومت کا ایکشن پلان اور عوام کو احتیاط کی ہدایت
حیدرآباد، 3 نومبر ]سیاست نیوز[ ریاستی دارالحکومت حیدرآباد میں بارش کی کمی اور زیر زمین پانی کی سطح میں بڑی گراوٹ کے بعد پانی کا بحران تشویشناک صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ حیدرآباد میں ایل نینو (El Niño) کا اثر شدید رہے گا، جس کے پیش نظر حکومت نے پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے جامع ایکشن پلان تشکیل دیا ہے۔ حکومت نے عوام سے پانی کا استعمال کفایت شعاری سے کرنے کی اپیل کرتے ہوئے دیگر ذرائع سے شہر کو پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے ہیں۔ بارشوں میں کمی کے بعد شہر کے کئی علاقوں میں پہلے ہی پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے اور لوگ واٹر ٹینکروں پر انحصار کرنے کے لیے مجبور ہیں۔شہر میں پانی کی قلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دیوالی کی آمد سے قبل ہی اہم تعلیمی اداروں بشمول سری چیتنیا اور نارائنا کی مادھاپور اور ہائی ٹیک سٹی کی برانچوں نے طلبہ کے لیے تعطیلات کا اعلان کر دیا ہے۔ کالج انتظامیہ اور عملے کی جانب سے یہ اطلاع دی گئی ہے کہ پانی کی عدم دستیابی کے بعد کلاسس آن لائن چلائی جائیں گی۔ عام طور پر دیوالی کے تہوار کے موقع پر ایک یا دو دن سے زیادہ کی چھٹیاں نہیں دی جاتیں۔ تاہم ہائی ٹیک سٹی جیسے علاقوں میں پانی کے شدید بحران کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں وقت سے پہلے ہی چھٹیوں کا اعلان کرنا پڑا ہے۔2