مصری نژاد لیڈرنے ریپبلکن مائیک راجرز کو شکست دی، صحت عامہ کے ماہر سے امریکی سینیٹ تک کا سفر
واشنگٹن، 4 نومبر (ایجنسیز) امریکہ کی سیاسی تاریخ میں آج ایک اہم باب کا اضافہ ہوا جہاں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر عبدالسید نے ریاست مشیگن سے امریکی سینیٹ کی نشست پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے ملک کے پہلے مسلم سینیٹر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا ہے۔ انہوں نے ریپبلکن پارٹی کے امیدوار اور سابق کانگریس رکن مائیک راجرز کو شکست دی۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے انتخابی تخمینوں کے مطابق 42 سالہ عبدالسید کی کامیابی نے امریکی سیاست میں مسلم نمائندگی کے حوالے سے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ وہ جنوری 2027 میں بطور سینیٹر حلف لیں گے۔ عبدالرحمن محمد السید، جنہیں عبدالسید کے نام سے جانا جاتا ہے، 31 اکتوبر 1984 کو ریاست مشیگن کے شہر روچسٹر ہلز میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد مصر سے امریکہ منتقل ہوئے تھے۔ عبدالسید نے مشیگن ہی میں پرورش پائی اور ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ عبدالسید نے اپنے پیشہ ورانہ کریئر کا آغاز تدریس اور صحت عامہ کے شعبے سے کیا۔ وہ کولمبیا یونیورسٹی کے میل مین اسکول آف پبلک ہیلتھ میں اسسٹنٹ پروفیسر رہے۔ 2015 میں انہیں ڈیٹرائٹ شہر کے محکمہ صحت کا سربراہ اور ایگزیکٹیو ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ انہوں نے 2017 تک اس عہدے پر خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں وہ وین کاؤنٹی کے محکمہ صحت، انسانی خدمات اور سابق فوجیوں کے امور کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے، جہاں 2022 سے 2025 تک خدمات انجام دیں۔ اس دوران انہوں نے طبی سہولتوں کی توسیع، عوامی صحت کے تحفظ اور طبی اخراجات میں کمی جیسے امور پر توجہ دی۔ ان کی کوششوں میں ہزاروں خاندانوں کے طبی قرضوں کے خاتمے سے متعلق پروگرام بھی شامل رہا۔ عبدالسید کی کامیابی کو امریکی مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ اس سے قبل کئی مسلم امریکی منتخب ایوانِ نمائندگان کے رکن بن چکے ہیں، تاہم امریکی سینیٹ میں اب تک کسی مسلمان کو منتخب ہونے کا اعزاز حاصل نہیں ہوا تھا۔ عبدالسید اپنی اہلیہ ڈاکٹر سارہ جْکاکو اور دو بیٹیوں کے ساتھ مشیگن میں مقیم ہیں۔
مشی گن میں جینا دشوار ہوگیا، عوام کو سہولت پہنچانے عبدالسید کا عہد
مشی گن ۔ 4 نومبر (ایجنسیز) امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں عبدالسید نے ریاست مشی گن سے سینیٹ کا الیکشن جیت کر مسلم برادری کیلئے تاریخی سنگ میل رقم کیا ہے۔ وہ امریکی تاریخ میں پہلے منتخب سینیٹر بن گئے ہیں۔ کامیابی کے بعد عبدالسید نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ایک ایسے امیدوار پر بھروسہ کیا جس کی کامیابی کا امکان سب سے کم سمجھا جا رہا تھا۔ مشی گن میں آپ کی خدمت کرنے کا منتظر ہوں۔ اپنی کامیابی کی تقریر میں السید نے کہا کہ دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار ہونے والے امریکہ میں شہریوں کو بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے جدوجہد نہیں کرنی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ مشی گن میں زندگی اتنی مشکل نہیں ہونی چاہیے ۔ ضروری اشیائے خوردونوش کا دوسرا تھیلا خریدنا یا گاڑی میں ایندھن بھروانا اتنا دشوار نہیں ہونا چاہیے ۔انہوں نے مزید کہاکہ گھر خریدنا اتنا مشکل نہیں ہونا چاہیے اور دنیا کے سب سے امیر اور طاقتور ملک میں ڈاکٹر سے علاج کرانا بھی اتنا دشوار نہیں ہونا چاہیے ۔امریکی خارجہ پالیسی اور بیرون ملک فوجی اخراجات پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کو یہ اطمینان ہونا چاہیے کہ ان کی رقم بیرون ملک فوجی کارروائیوں اور بمباری کے بجائے ملک اور ان کے بچوں کی ضروریات پر خرچ ہو رہی ہے۔
ان کے بقول، ٹیکس ادا کرنا اور یہ جاننا اتنا مشکل نہیں ہونا چاہیے کہ یہ رقم آپ اور آپ کے بچوں پر خرچ ہوگی، نہ کہ کسی دوسرے ملک میں لوگوں اور ان کے بچوں پر بم گرانے کیلئے ۔