بنگلورو، 8 نومبر (یو این آئی) کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیواکمار نے اتوار کو الزام عائد کیا کہ ریاست کے بعض پیٹرول پمپوں پر فروخت کیے جانے والے پیٹرول میں ایتھنول کی مقدار 31 فیصد تک پائی گئی ہے ، جو مقررہ E20 معیار کے تحت 20 فیصد کی حد سے کہیں زیادہ ہے ۔ انہوں نے اس معاملے میں پیر کو دستاویزی ثبوت پیش کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ایندھن کے معیار، نگرانی کے ضابطوں اور صارفین کے تحفظ سے متعلق سوالات اٹھاتے ہوئے شیواکمار نے کہا کہ ریاستی حکومت کو پیٹرول میں مقررہ حد سے زیادہ ایتھنول ملائے جانے کی شکایات موصول ہوئی ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ حکومت تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے پیش کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ ریاست کے 67 مقامات سے پیٹرول کے نمونے جمع کیے گئے ہیں اور تحقیقات تقریباً 30 فیصد مکمل ہو چکی ہیں۔ حکومت کو ایسی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں کہ پیٹرول میں ایتھنول کی زیادہ مقدار کی وجہ سے گاڑیوں کے انجن بار بار بند ہو رہے ہیں اور ایندھن کی اوسط (مائلیج) بھی کم ہو رہی ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ متعلقہ وزیر پیر کو ایک پریس کانفرنس میں تحقیقات کے نتائج اور ان سے متعلق دستاویزات جاری کریں گے ۔
یہ تنازع ریاستی حکومت کے محکمہ خوراک و شہری رسد کی جانب سے سات اضلاع میں جمع کیے گئے پیٹرول کے نمونوں کی جانچ کے بعد سامنے آیا ہے ۔ریاستی حکومت کے مطابق، بعض نمونوں میں ایتھنول کی مقدار 30 فیصد سے زیادہ پائی گئی۔ ان میں انڈین آئل کارپوریشن کے ایک پٹرول پمپ سے حاصل کردہ نمونے میں 31.2 فیصد اور ہندوستان پیٹرولیم کے ایک نمونے میں 30.5 فیصد ایتھنول کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے ۔