ایران اور امریکہ کے مابین دوسرے دور کی بات چیت پھر شروع نہ ہوسکی

,

   

ٹرمپ نے امریکی مصالحت کاروں کو اسلام آباد کے سفر سے روک دیا
امریکی حکام سے ملاقات کے بغیر عباس عراقچی اسلام آباد سے واپس

واشنگٹن 25 اپریل ( ایجنسیز ) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اپنے مصالحت کاروں کو حکم دیا ہے کہ وہ پاکستان کا سفر نہ کریں ۔ امریکی مصالحت کار ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمہ پر مذاکرات کیلئے پاکستان روانہ ہونے والے تھے ۔ فاکس نیوز نے بتایا کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے مصالحت کاروں سے کہا ہے کہ وہ 18 گھنٹے طویل فلائیٹ کا سفر نہ کریں ۔ یہ حکم ایسے وقت دیا گیا جبکہ یہ لوگ روانگی کی تیاری کر رہے تھے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے مصالحت کار بلا وجہ اتنا طویل سفر نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے معاملے میں امریکہ تمام امور پر کنٹرول رکھتا ہے اور ایران جب چاہے رابطہ کرسکتے ہیں۔ ٹرمپ نے تاہم کہا کہ اپنے مصالحت کاروں کو ایران کا سفر کرنے سے روکنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایران میں جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی ۔ اس سوال پر کہ آیا امن بات چیت میںحصہ نہ لینے کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ جنگ دوبارہ شروع ہوجائے گی ؟ ٹرمپ نے کہا کہ نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے ۔ ہم نے ابھی اس کے تعلق سے سوچا نہیں ہے ۔ واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکاف کو بات چیت کیلئے روانہ کرنے کا امکان تھا ۔ ٹرمپ نے تاہم ان دونوںکو سفر پاکستان سے روک دیا ہے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی ۔اس دوران ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی اسلام آباد سے واپس ہوگئے ہیں۔ عراقچی نے پاکستان میں امریکی عہدیداروں اور مندوبین سے ملاقات نہیں کی ہے ۔ عباس عراقچی کل ہی اسلام آباد پہونچے تھے تاکہ سینئر پاکستانی عہدیداروں کے ساتھ خطہ میں امن اور جنگ بندی کے تعلق سے تبادلہ خیال کرسکیں۔ امریکہ اور ایران نے دو ہفتے قبل پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں جنگ بندی کیلئے پہلے دور کی بات چیت کی تھی جب کہ دونوں کے مابین عارضی جنگ بندی کا اعلان بھی کیا گیا تھا ۔ تاہم دو ہفتوں کے گذرجانے کے باوجود فریقین کے مابین تاحال دوسرے دور کی بات چیت نہیں ہوسکی ہے ۔ جہاں پہلے امریکہ بات چیت کیلئے رضامند تھا وہیں ایران کی جانب سے پس و پیش کا اظہار کیا گیا تھا اور اب امریکہ نے اپنے وفد کو پاکستان روانہ کرنے سے گریز کیا ہوا ہے ۔ تاہم اس دوران صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں غیر معینہ مدت کی توسیع کا اعلان کردیا گیا تھا ۔ دونوں ملکوں کے مابین باضابطہ جنگ بندی کا اعلان تو نہیں ہوا ہے اور نہ ہی دوسرے دور کی بات چیت ہوئی ہے تاہم کہا جا رہا ہے کہ در پردہ سفارتی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم اس کی کوئی توثیق نہیں ہوسکی ہے ۔