ایران جنگ سے امریکہ میں مہنگائی ، ٹرمپ انتظامیہ پرشدید دباؤ

   

واشنگٹن ، 18 مئی (آئی اے این ایس) ایران کے ساتھ جنگ اور خلیجی خطے میں بڑھتی کشیدگی نے امریکی معیشت پر دباؤ بڑھانا شروع کردیا ہے، جس کے باعث امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کو آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل سیاسی مشکلات کا سامنا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور بڑھتی مہنگائی نے عوامی بے چینی میں اضافہ کردیا ہے جبکہ اپوزیشن ڈیموکریٹس نے وائٹ ہاؤس کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ جنگ کے باعث امریکی عوام کو پٹرول اور دیگر ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کا سامنا ہے۔ امریکہ میں پٹرول کی اوسط قیمت 4.51 ڈالر فی گیلن تک پہنچ چکی ہے۔ جیمیسن گریر نے کہا کہ اگرچہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے مشکلات پیدا کررہا ہے، تاہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا امریکی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ دوسری جانب ڈیموکریٹس نے مہنگائی اور معاشی دباؤ کا ذمہ دار براہ راست ٹرمپ انتظامیہ کو قرار دیا ہے۔ سابق امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹ پیٹ بٹجج نے کہ ایران جنگ کے اثرات صرف پٹرول تک محدود نہیں بلکہ ڈیزل، کھاد، رہائشی قرضوں اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک لیڈر حکیم جیفریز نے الزام لگایا کہ ٹرمپ نے امریکہ کو ایک غیر ذمہ دارانہ اور مہنگی جنگ میں دھکیل دیا ہے۔ اسی طرح ڈیموکریٹ رکن کانگریس جیک آچن کلاوس نے کہا کہ امریکی عوام بڑھتی مہنگائی اور ایندھن قیمتوں کو براہ راست ٹرمپ کی خارجہ پالیسی سے جوڑ رہے ہیں۔ ماہرین معاشیات اور توانائی تجزیہ نگاروں کے مطابق آبنائے ہرمز بدستور عالمی تیل سپلائی کا سب سے حساس راستہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں کو متاثر کرسکتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں عدم استحکام برقرار رہا تو عالمی مہنگائی، شپنگ لاگت اور معاشی ترقی پر مزید دباؤ پڑسکتا ہے۔