تہران : جوہری ہتھیاروں کی مانیٹرنگ کے لیے قائم بین الاقوامی ‘ واچ ڈاگ’ کے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے اعلیٰ ترین درجے میں یورینیم کی افزودگی کا عمل تیز کر دیا ہے۔ اس امر کا اظہار بین الاقوامی جوہری ‘واچ ڈاگ’ ‘آئی اے ای اے’ کی اقوام متحدہ میں پیش کردہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے لائی گئی ہے جب امریکہ ایرانی جوہری پروگرام کے لیے صدر ٹرمپ کے زیر قیادت سخت مؤقف رکھتا ہے۔ اسرائیل بھی امریکہ کے ساتھ اس معاملے پر ایک صفحے پر نظر آتا ہے۔ بین الاقوامی ادارے کی یہ رپورٹ ایسوسی ایٹڈ پریس نے بدھ کے روز دیکھی ہے۔جوہری ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ آٹھ فروری کو ایران کے پاس 274.8 کلو گرام کی مقدار میں یورینیم موجود تھی۔ یہ یورینیم 60 فیصد تک افزودہ ہے۔لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ پچھلے سال ماہ نومبر میں ایرانی جوہری پوروگرام کے بارے میں اسی ادارے کی رپورٹ میں ایران کی ظاہر کردہ افزودہ یورینیم میں 92 کلو گرام سے زائد کا اضافہ دکھایا گیا ہے۔ افزودہ یورینیم میں یہ اضافہ ایران نے محض تین سے چار ماہ کے دوران ممکن بنالیا ہے۔2024 کی جوہری ‘واچ ڈاگ’ ادارے کی ‘رپورٹ میں کہا گیا ہے ایران کے پاس افزودہ یورینیم کی مقدار اگست تک 164.7 کلو گرام کی مقدار میں تھی۔ ماہ نومبر یہ مقدار 182 کلوگرام سے زیادہ ہو گئی اور اب اس سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔واضح رہے جوہری ادارے کی رپورٹ کے مطابق جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے 90 فیصد کی سطح تک افزودہ کی گئی یورینیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ گویا اس وقت ایران اس سے کچھ ہی پیچھے رہ گیا ہے۔’واچ ڈاگ’ کے مطابق ایران واحد ایسا ملک ہے جو جوہری ہتھیار تو نہیں رکھتا مگر اس کے پاس اتنی بڑی مقدار میں افزودہ یورینیم موجود ہے۔ جو ہتھیار بنانے کے اسے قریب تر کر دیتا ہے۔