ایک صفحہ پر مشتمل نئی یادداشت مفاہمت تیار کرنے امریکہ کا دعویٰ، فریقین ایک دوسرے کے بیحد قریب
واشنگٹن:6 مئی ( یو این آئی ) امریکی حکام اور وائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باقاعدہ خاتمے اور ایٹمی مذاکرات کے نئے فریم ورک پر اتفاق کے لیے ایک صفحہ کی یادداشت مفاہمت تیار کر لی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق فریقین اس وقت معاہدہ کے اتنے قریب ہیں جتنا جنگ کے آغاز سے اب تک کبھی نہیں رہے تھے۔امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوز لہ رپورٹ کے مطابق امریکہ کو اگلے 48 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے چند اہم نکات پر حتمی جواب کا انتظار ہے۔ اگرچہ ابھی کسی دستاویز پر دستخط نہیں ہوئے، لیکن صدر ٹرمپ کے قریبی مشیر جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف ایرانی حکام سے براہِ راست اور ثالثوں کے ذریعہ مسلسل رابطے میں ہیں۔آبنائے ہرمز: اس 30 روزہ مدت کے دوران ایران کی جانب سے جہاز رانی پر پابندیاں اور امریکہ کا بحری محاصرہ بتدریج ختم کر دیا جائے گا۔ایران 12 سے 15 سال تک یورینیئم کی افزودگی روکنے پر غور کر رہا ہے، جبکہ امریکہ 20 سال کا مطالبہ کر رہا ہے۔خبر کے مطابق ایران نے مبینہ طور پر اپنا اعلیٰ افزودہ یورینیئم ملک سے باہر منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ایک تجویز کے مطابق یہ مواد امریکہ منتقل کیا جا سکتا ہے، جو کہ تہران کی سابقہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔اس کے بدلے میں امریکہ ایران کے منجمد اربوں ڈالرز ریلیز کرے گا اور پابندیوں میں بتدریج نرمی کی جائے گی۔وائٹ ہاؤس کا ماننا ہے کہ ایرانی قیادت اس وقت مختلف دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے اتفاقِ رائے پیدا کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صورتحال کو “انتہائی پیچیدہ اور تکنیکی” قرار دیا ہے۔ اگرچہ انہوں نے سفارتی حل کی امید ظاہر کی، لیکن ساتھ ہی ایرانی قیادت کے بعض حصوں پر سخت تنقید بھی کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعتماد کی فضا ابھی مکمل بحال نہیں ہوئی۔یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکی افواج بحری محاصرہ دوبارہ بحال کرنے اور فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہیں۔
ایران اور امریکہ تین اہم نکات پر متفق، جنگ بندی کے اعلان کی قیاس آرائیاںاسلام آباد 06 مئی:(ایجنسیز)ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی رابطوں اور ممکنہ جنگ بندی سے متعلق خبروں نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک بعض اہم نکات پر اتفاقِ رائے کے قریب پہنچ چکے ہیں، تاہم متعدد معاملات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک ایک مختصر معاہدے پر غور کر رہے ہیں جس میں جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت جیسے امور شامل ہیں۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر یہ یقین دہانی کرا سکتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا جبکہ یورینیم افزودگی سے متعلق بھی مختلف تجاویز زیر بحث ہیں۔ذرائع کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور منجمد رقوم کی واپسی جیسے معاملات پر بھی گفتگو جاری ہے۔ اس کے ساتھ انسانی امداد اور تعمیر نو سے متعلق مالی تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق عالمی تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کیلئے مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی معیشت اور تیل کی ترسیل کیلئے انتہائی اہم سمندری راستہ تصور کیا جاتا ہے۔دوسری جانب ایرانی مذاکراتی حلقوں سے وابستہ شخصیات نے بعض رپورٹس کو امریکی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ ایرانی موقف کے مطابق کچھ اطلاعات کا مقصد عالمی منڈیوں اور سیاسی ماحول پر اثر ڈالنا ہو سکتا ہے۔وائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ایرانی قیادت اس وقت مختلف دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے کسی حتمی اتفاقِ رائے تک پہنچنا پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایران کے اندرونی سیاسی اختلافات مذاکراتی عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے صورتِ حال کو ‘‘انتہائی پیچیدہ اور تکنیکی’’ قرار دیا ہے۔ انہوں نے سفارتی حل کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا عمل جاری رہنا چاہیے، تاہم انہوں نے ایرانی قیادت کے بعض حلقوں پر سخت تنقید بھی کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا ابھی مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر موجودہ مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو امریکہ بحری محاصرہ دوبارہ نافذ کرنے اور فوجی کارروائی بحال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اس امکان نے خطے میں کشیدگی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق آئندہ مذاکرات کسی غیر جانبدار مقام پر منعقد کیے جا سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کئی دیگر نکات پر بات چیت ابھی جاری ہے۔ اب تک کسی حتمی معاہدے یا باضابطہ جنگ بندی کا سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم عالمی سفارتی حلقے ان پیش رفتوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔