ایسے وزیراعظم کی ہمیں ضرورت ہے کیا ؟ کویتا کا استفسار

   

قوم پرستی کی آڑ میں صنعتکار دوستوں کی پشت پناہی ، ہنڈن برگ کی رپورٹ پر خاموشی معنی خیز
حیدرآباد ۔ 8 فبروری ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کے کویتا نے پارلیمنٹ کو گواہ بناکر جھوٹ بولنے کا وزیراعظم نریندر مودی پر الزام عائد کیا ۔ بی آر ایس پارٹی نے اڈانی معاملہ کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا جس کو وزیراعظم اور مرکزی حکوت نے قبول نہیں کیا ۔ کویتا نے استفسار کیا کہ کیا ایسے وزیراعظم کی ہمیں ضرورت ہے ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ ہنڈن برگ کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے 10 دن میں دنیا کے امیر ترین لوگوں کی فہرست میں دوسرے مقام پر رہنے والے اڈانی 22 ویں مقام پر پہنچ گئے ۔ اڈانی نے کئی پبلک سیکٹرس کمپنیوں سے قرض حاصل کیا ہے ۔ اس کے علاوہ ایل آئی سی نے 80 ہزار کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کی ہے ۔ ایس بی آئی سے 27 ہزار کروڑ روپئے ، بینک آف بڑودہ سے 5380 کروڑ ، پنجاب نیشنل بینک سے 7 ہزار کروڑ اس طرح 7 قومی بینکوں سے اڈانی گروپ میں سرمایہ کاری کی ہے ۔ ہنڈن برگ رپورٹ کے اجرائی کے بعد اڈانی گروپ کے شیئرس میں 51 فیصد تک گراوٹ آئی ہے ۔ ایل آئی سی کو 18 ہزار کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے ۔ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین نچلے و متوسط طبقہ کے عوام نے ایل آئی سی میں شیئرس خریدیں ہیں اور اڈانی کی وجہ سے انہیں نقصان پہنچا ہے ۔ کویتا نے اس معاملہ میں مودی کی خاموشی کو معنی خیز قرار دیا ہے ۔ اڈانی کی وجہ سے ایل آئی سی ، ایس بی آئی جیسی کئی پبلک سیکٹر کمپنیوں کو نقصان برداشت کرنا پڑرہا ہے ۔ بی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ نے صدر جمہوریہ کے خطبہ کا بائیکاٹ کیا ۔ وزیراعظم نریندر مودی کی تقریر سے قبل واک آؤٹ کیا ۔ پارلیمنٹکے بجٹ اجلاس سے ابھی تک ہر دن احتجاج کیا جارہا ہے ۔ صدر جمہوریہ کے خطبہ تشکر مباحث میں دیڑھ گھنٹہ تک تقریر کرنے والے وزیراعظم مودی نے ایک مرتبہ بھی اڈانی کے بارے میں بات نہیں کی ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جہاں ہمیں سوچنا ہے کہ کیا ہمیں ایسے وزیراعظم کی ضرورت ہے ۔ 10 لاکھ کروڑ روپئے ضائع ہونے کے باوجود وزیراعظم لب کشائی سے گریز کیا ۔ اس سے اندازہ ہوگیا کہ مودی عوام کی نہیں اپنے صنعتکار دوستوں کی زیادہ پرواہ کرتے ہیں ۔ ن