این آر سی اور سی اے اے کیخلاف مہم جاری رہے گی:ممتا بنرجی

,

   

ملک میں خوف و ہراس کا ماحول ،بنگال میں متعصبانہ قوانین لاگو نہیں ہونے دیں گے،بی جے پی بنگالی تہذیب و کلچر سے ناواقف

کولکتہ: مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتا بنرجی نے بی جے پی کی قیادت والی حکومت کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ آج پورے ملک میں خوف وہ ہراس کا ماحول پیدا کردیا ہے ۔اس کے ساتھ ہی ممتا بنرجی نے شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کرنے والوں کی یک طرفہ کارروائی کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے این آر سی اور شہریت ترمیمی ایکٹ کو فراموش نہیں کیا ہے ۔گرچہ کورونا وائرس کی وجہ سے ہماری توجہ اس مہاماری پر قابوپانے کی ہے مگر ہم بنگال میں این آر سی اور شہریت ترمیمی ایکٹ کو نافذ نہیں ہونے دیں گے ۔ترنمول کانگریس کے سالانہ شہید دیوس ریلی کو خطاب کرتے ہوئے کہا آج پورے ملک اس طرح خوف وہراس کاماحول ہے کوئی بھی اپنی بات رکھنے کی جرأت نہیں کرپارہاہے اور ہرجگہ خوف و ہراس کاماحول ہے ۔ممتا بنرجی نے کو بی جے پی کو بنگال کی باہری پارٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پارٹی کو ریاست کی تہذیب و کلچر سے کوئی سرو کار نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے مغربی بنگال کے عوام کو نظرانداز کردیا ہے ۔بنگال کے عوام اس کا بھرپور جواب دیں گے ۔باہر ی لوگ ریاست کو نہیں چلاپائیں گے ۔یہاں کچھ لوگ بی جے پی کے ہیں مگر انہیںکوئی سیاسی تجربہ نہیں ہے اور یہ لیڈران شہریوں کو مارنے اور ان سے بدلہ لینے کی بات کرتے ہیں۔ممتا بنرجی نے کہاکہ بی جے پی دعویٰ کرتی ہے کہ بنگال میں ہردن تشدد کے واقعات ہوتے ہیں۔یہ جھوٹ ہے اور اس کے ذریعہ میری حکومت کے خلاف سامش رچنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ممتا بنرجی نے کہا کہ بنگال پر بیان بازی کرنے والے اترپردیش کو دیکھ لیں وہاں کیا ہورہا۔لوگ اپنی شکاتیں درج کرانے سے خوف زدہ ہیں۔ایک واقعہ میں کئی کئی پولس اہلکاروں کی موت ہوگئی ہے ۔ممتا بنرجی نے کہا کہ بی جے پی بنگال، راجستھان اور مدھیہ پردیش میں بی جے پی نے روپے کی طاقت کے بدولت منتخب حکومت کو گرانے کی کوشش کی اور مدھیہ پردیش میں اسے کامیابی بھی مل گئی مگر یہ جمہوریت کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ممتا بنرجی نے کہا کہ اگلی مرتبہ ان کی ہی قیادت میں ترنمول کانگریس کی حکومت بنے گی۔اگلا انتخاب بنگال اور ملک کو ایک نئی راہ دکھائے گا۔خیال رہے کہ ریاست میں لااینڈ آرڈر کے سوال پر بی جے پی مسلسل ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت کو گھیر رہی ہے ۔اس کے علاوہ امفان اور لاک ڈاؤن کے درمیان راحتی اشیاء کی تقسیم کو لے کر بدعنوانی کا الزام عاید کیا جارہا ہے ۔گزشتہ دنوں بنگال میں پہلی ورچوئیل ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا تھا کہ ملک بھر میں جمہوریت مضبوط ہورہی ہے مگر بنگال میں سیاسی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے ۔(متعلقہ خبر صفحہ 3 پر)

تمام ریاستوں میں گجرات کی حکمرانی کیوں ہو؟
کولکتہ : چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی نے بی جے پی زیر قیادت مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بی جے پی مدھیہ پردیش کے بعد راجستھان اور مغربی بنگال میں منتخب حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے میں مصروف ہے۔ منگل کو ٹی ایم سی کی ورچول ریالی سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ تمام ریاستوں میں گجرات والوںکی حکمرانی کیونکر ہونی چاہئے ؟ وفاقی ڈھانچہ کی پھر کیا ضرورت رہ جائے گی؟ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال پر بیرون ریاست والے حکمرانی نہیں کرپائیں گے۔ مغربی بنگال میں جولائی 2021 ء میں اسمبلی چناؤ مقرر ہے۔(تفصیلی خبر صفحہ 3 پر)