محروم حقیقی شہریوں میں ہندوؤں کی اکثریت، بنگلہ دیش کے 40 لاکھ غیر قانونی مہاجرین کے نام ووٹر لسٹ میں شامل : آر ایس ایس
پشکر 9 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) آر ایس ایس نے کہا ہے کہ آسام میں شہریوں کے قومی رجسٹر کی قطعی فہرست میں چند خامیاں ہیں، مزید پیشرفت سے قبل ان کی اصلاح کرنا ضروری ہے۔ تاہم کہاکہ یہ عمل قابل خیرمقدم ہے۔ ذرائع نے کہاکہ آسام میں این آر سی کی قطعی فہرست میں چند حقیقی شہریوں کے ناموں کو شامل نہ کئے جانے پر آر ایس ایس کے تین روزہ رابطہ اجلاس کے پہلے دن تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ آر ایس ایس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ قطعی فہرست میں اپنے ناموں کی شمولیت سے محروم افراد میں ہندوؤں کی اکثریت ہے۔ بی جے پی کے ایک جنرل سکریٹری رام مادھو نے جو شمال مشرقی ہند کی سات ریاستوں میں اپنی پارٹی کے تنظیمی اُمور کے انچارج بھی ہیں، آسام میں شہریوں کے قومی رجسٹر اور اس کی قطعی فہرست کی تفصیلات سے اجلاس کو واقف کروایا۔ آر ایس ایس کے جوائنٹ سکریٹری دتاتریہ ہوسامالے نے سنگھ پریوار کے سہ روزہ رابطہ اجلاس کے آخری دن پریس کانفرنس سے اپنے خطاب میں این آر سی کو ایک نازک و پیچیدہ عمل قرار دیا اور کہاکہ بنگلہ دیش سے آنے والے غیرقانونی مہاجرین کے نام ووٹر لسٹ میں شامل ہیں۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ ’بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے 35 تا 40 لاکھ غیرقانونی مہاجرین ہیں جو اب آسام میں مستقل طور پر سکونت اختیار کرچکے ہیں۔ ماضی کی حکومتوں کے دوران اُنھیں غیر قانونی دستاویزات جاری کئے گئے تھے جس سے یہ معاملہ پیچیدہ ہوگیا ہے اور سارا مسئلہ مزید حساس و نازک بن گیا ہے‘۔ اُنھوں نے کہاکہ آر ایس ایس رابطہ اجلاس میں این آر سی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ہوسابالے نے کسی پیشرفت سے قبل این آر سی میں موجود خامیوں کی اصلاح کرنے کی تجویز پیش کی اور کہاکہ ’این آر سی کی قطعی فہرست کوئی قانون نہیں … اس میں چند غلطیاں اور خامیاں بھی ہیں … (چنانچہ) حکومت کو چاہئے کہ انھیں (خامیوں کو) دور کرتے ہوئے مزید پیشرفت کرے‘۔ تاہم آر ایس ایس لیڈر نے بی جے پی حکومت کی طرف سے کئے گئے این آر سی کی ستائش کی اور کہاکہ اقتدار پر آنے کے بعد اُنھیں مقررہ وقت میں یہ کام کرنا تھا‘۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں شریک کئی قائدین نے این آر سی قطعی فہرست میں کئی حقیقی شہریوں کے نام چھوٹ جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔ بالخصوص وہ افراد جو پڑوسی ریاستوں سے آسام پہونچ کر وہاں آباد ہوگئے تھے۔ آر ایس ایس کے اس اجلاس میں جو لوک سبھا انتخابات کے بعد پہلی مرتبہ منعقد ہوا ہے، تقریباً 35 تنظیموں کے 200 مندوبین نے شرکت کی۔