ایک سال کے دوران تلنگانہ میں 85.56 فیصد مقدمات کی یکسوئی

   

جمہوریت میں عدلیہ اور نظام عدلیہ کو مستحکم بنانے کی ضرورت، چیف جسٹس اپریش کمار کا خطاب
حیدرآباد۔15۔اگسٹ(سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ میں ایک سال کے دوران مجموعی طور پر 85.56 فیصد مقدمات کی یکسوئی کو یقینی بنایا ہے۔ جمہوریت میں عدلیہ اور نظام عدلیہ کو مستحکم بناتے ہوئے انہیں جمہوری اصولوں کے مطابق چلانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ جسٹس اپریش کمار سنگھ چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ نے 80 ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر ہائی کورٹ میں پرچم کشائی کے بعد منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کے حصول کے عمل میں رکاوٹیں پیدا نہیں ہونی چاہئے اور جمہوری اداروں کو مستحکم بنائے رکھنے کے لئے ٹھوس اقدامات کے عہد کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ آزادی کے ثمرات ہر شخص تک پہنچنے چاہئے ۔ انہوںنے ایک برس کے دوران تلنگانہ ہائی کورٹ میں مقدمات کی یکسوئی کے معاملہ میں کہا کہ اگر بنچ اور بار کی کوشش ہوتو ایسی صورت میں مقدمات کی سماعت عاجلانہ ممکن ہوسکتی ہے اور ان کی یکسوئی کے اقدامات یقینی بنائے جاسکتے ہیں۔جسٹس اپریش کمار سنگھ نے ریاست میں نظام عدلیہ کو مستحکم بنانے اور اس کے لئے بنیادی ڈھانچہ کی فراہمی کے ساتھ ساتھ انسانی وسائل‘ ٹکنالوجی ‘ کے شعبوں میں متعدد اقدامات کئے جار ہے ہیں ۔ انہو ںنے راجندر نگر میں زیر تعمیر نئے ہائی کورٹ کامپلکس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کامپلکس کے دوسرے زون کا سنگ بنیاد رکھا جاچکا ہے اور 24.44فیصد کا موں کی تکمیل کا نشانہ رکھا گیا تھا جس میں 20.25 فیصد کاموں کو مکمل کرلیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں عدالت نے ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کے اقدامات کئے ہیں جن میں عدالتی نظام کو عصری ٹکنالوجی سے مربوط کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ ضلعی عدالتوں میں ای ۔ فائلنگ نظام کو روشناس کرواتے ہوئے ڈیجیٹل عدالتی نظام کو مزید وسعت دینے کے اقدامات کئے جار ہے ہیں۔جسٹس اپریش کمار سنگھ نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ریاست کے طلبہ میں قانون کے متعلق شعور بیداری کے اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں اور انہیں قوانین کے متعلق واقف کرواتے ہوئے ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور مظالم کے متعلق واقف کروایا جارہا ہے۔ چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ نے کہا کہ e-prisons کے ذریعہ فوجداری مقدمات میں انصاف رسانی کے عمل کو بہتر بنانے کے علاوہ قیدیوں کے حقوق اور ان پر عمل آوری کے معاملات کو بہتر بنانے کے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ پرچم کشائی کے بعد منعقدہ تقریب میں تلنگانہ ہائی کورٹ کے بیشتر تمام ججس کے علاوہ بارکونسل آف تلنگانہ کے صدر مسٹر اے نرسمہا ریڈی ایڈوکیٹ ‘ ایڈوکیٹ جنرل حکومت تلنگانہ مسٹر اے سدرشن ریڈی کے علاوہ سرکردہ وکلاء برادری کی بڑی تعداد موجود تھی ۔3