بی آر ایس دور حکومت میں فلاحی اسکیمات فراموش، اندراشکتی پروگرام میں ریاستی وزراء کے ساتھ شرکت
حیدرآباد۔ 16 جولائی (سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈی سریدھر بابو نے کہا کہ تلنگانہ حکومت خواتین کو معاشی طور پر خود مختار بنانے کے لئے مختلف اسکیمات پر عمل پیرا ہے۔ پداپلی میں اندرا شکتی پروگرام میں ریاستی وزراء ٹی ناگیشور راؤ، ڈی انوسویا سیتکا اور رکن اسمبلی وجئے کمار راؤ کے ہمراہ سریدھر بابو نے حصہ لیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سریدھر بابو نے کہا کہ پداپلی ضلع میں خواتین کے سیلف ہیلپ گروپ سے آر ٹی سی میں 9 بسوں کو کرائے پر حاصل کیا ہے۔ سابق میں صرف بڑے اور دولت مند افراد ہی آر ٹی سی بسوں کو کرائے پر لیا کرتے تھے لیکن کانگریس حکومت نے خواتین کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے منصوبہ کے تحت سیلف ہیلپ گروپس کو آر ٹی سی بسوں کی ذمہ داری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی ایک کروڑ خواتین کو کروڑپتی بنانے کے منصوبہ پر عمل پیرا ہیں۔ سیلف ہیلپ گروپ کو سولار برقی تیاری پراجکٹس الاٹ کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں سے دھان کی خریدی کا کام خواتین کے ذمہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے پداپلی میں وی ہب کے قیام کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق چیف منسٹر کے سی آر نے تلنگانہ سے زیادہ آندھرا پردیش کو پانی کی سربراہی پر توجہ مرکوز کی تھی۔ تلنگانہ حکومت آبی مفادات کے تحفظ کے لئے جدوجہد کررہی ہے اور اس مسئلہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے لئے کئی اسکیمات شروع کی گئیں اور شفاف عمل آوری کے لئے ہاوزنگ، راشن کارڈ اور دیگر فوائد خواتین کے نام پر الاٹ کئے جارہے ہیں۔ سریدھر بابو نے کہا کہ گوداوری اور کرشنا میں پانی کی حصہ داری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ وزارت جل شکتی نے تلنگانہ میں اپنا موقف پیش کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ کی تعمیر سے کسانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوا جبکہ بدعنوانیوں کے ذریعہ اثاثہ جات میں اضافہ کیا گیا۔ سریدھر بابو نے الزام عائد کیا کہ سابق بی آر ایس حکومت نے فلاحی اسکیمات کو فراموش کردیا تھا۔ 1