نئی دہلی: اے ڈبلیو ایس ینگ بلڈرز چیلنج میں پورے ملک کے 10 اسکول فاتح بن کر سامنے آئے ہیں۔ جن میں دہلی، ہریانہ، کرناٹک، پنجاب، تمل ناڈو، اتر پردیش، اور مغربی بنگال کے اسکول شامل ہیں۔ ان اسکولوں کے بچوں نے اس مقابلے میں اسمارٹ فارمنگ اور اسمارٹ ایگریکلچر، اربن ٹرانسپورٹ مینجمنٹ اور یوٹیلٹیز مینجمنٹ میں حقیقی مسائل کو حل کرنے کے بہترین حل پیش کیے ہیں۔ وہ اے ڈبلیو ایس ینگ بلڈرز چیلنج 2021 پروگرام کے اہم ڈرائیوروں میں سے ایک ہے ۔ اس پروگرام کا مقصد اسکول کے بچوں میں سائنسی قابلیت، کمپیوٹیشنل اور ڈیزائن کی سوچ اور کوڈنگ کی مہارت کو فروغ دینا ہے ۔ وزارت تعلیم – انوویشن سیل ، اٹل انوویشن مشن، نیتی آیوگ، سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن اور کوڈ داٹ اوآرجی کے ساتھ مل کر شروع کی گئی اس مہم کا مقصد نوجوانوں کو کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مشین لرننگ اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) وغیرہ کے بنیادی اصولوں سے متعارف کرانا اور ان ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے مثبت اثر ڈالنا ہے ۔
اکتوبر 2021 میں شروع کیا گیا رجسٹریشن کی مدت کے دوران ہر روز اوسطاً 100 نئے اسکول اے ڈبلیو ایس ینگ بلڈرز چیلنج کے لیے سائن اپ ہوتے ہیں، جو کہ اسکول کے طلباء کی نئی ٹیکنالوجی سیکھنے اور اسے اصولوں کی ترقی کے لیے لاگو کرنے میں دلچسپی کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس پروگرام میں ہندوستان کی 28 ریاستوں اور چھ مرکز کے زیرانتظام ریاستوں کے 2938 اسکولوں کے 5952 پروجیکٹوں کو درج کیا گیا تھا۔