اپنے ہی سابقہ فیصلے سے اختلاف ۔ کہا دہشت گردی معاملات میں بھی ضمانت ایک اصول ہے
نئی دہلی 18 مئی ( ایجنسیز ) سپریم کورٹ نے اپنے ہی سابقہ فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کیا جس میں دہلی فسادات کے ملزم عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت سے انکار کیا گیا تھا۔ عدالت نے منشیات دہشت گردی معاملے میں ملزم جموں و کشمیر کے سید افتخار اندرابی کو ضمانت دی تھی اور طلبا لیڈر خالد اور شرجیل کو ضمانت نہ دیئے جانے پر عدم اتفاق کا اظہار کیا تھا۔یو اے پی اے اور این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات کے تحت الزامات کا سامنا کر رہے اندرابی کو رہا کرتے وقت سپریم کورٹ نے بغیر ٹرائل طویل عرصہ تک جیل میں رہنے کو بنیاد بنایا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ یو اے پی اے کے معاملوں میں بھی ’ضمانت اصول ہے اور جیل استثنیٰ‘ والا قانون نافذ ہوتا ہے۔جنوری میں عدالت نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا جبکہ باقی تمام ملزمین کو رہا کر دیا گیا تھا۔ جسٹس بی وی ناگرتنا اور اجول بھوئیاں کی بنچ نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہ دینے والی دوسری بنچ کے فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔ انہوں نے کے اے نجیب فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اندرابی کو جس عدالتی اصول کے تحت ضمانت دی جا رہی ہے وہ 3 ججوں کی بنچ نے طے کیا تھا۔ عمر خالد کے معاملے میں 2 ججوں کی بنچ نے اس اصول پر عمل نہیں کیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ضمانت ایک اصول ہے اور قید استثنیٰ ہے۔