بارش سے متاثرہ اضلاع میں امدادی کاموں کیلئے 200 کروڑ منظور

   

7 اضلاع کیلئے فی کس 10 کروڑروپئے مختص، دیگر اضلاع کو فی کس 5 کروڑ کی اجرائی
حیدرآباد 2 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے شدید بارش اور سیلاب سے متاثرہ 7 اضلاع میں امدادی کاموں کے لئے 200 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ اِس سلسلہ میں اسپیشل چیف سکریٹری ریونیو اروند کمار نے جی او آر ٹی 43 جاری کیا۔ جی او کے مطابق اضلاع کاماریڈی، میدک، نرمل، عادل آباد، نظام آباد، آصف آباد اور سرسلہ کے لئے فی کس 10 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں جبکہ باقی 26 اضلاع کے لئے فی کس 5 کروڑ مختص کئے گئے۔ ضلع نظم و نسق کی جانب سے مختص کردہ رقم کو فوری مرمتی کاموں پر خرچ کیا جائے گا۔ سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے علاوہ پینے کے پانی کی سربراہی اور دیگر ضروری اُمور کے لئے یہ رقم خرچ کی جاسکتی ہے۔ مختص کردہ رقم فصلوں کے نقصانات یا ایکس گریشیاء کی اجرائی کے لئے استعمال نہیں کی جائے گی کیوں کہ دونوں مدات کے تحت علیحدہ رقم جاری کی جائے گی۔ ضلع کلکٹر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو رقم کے استعمال کا مجاز قرار دیا گیا ہے۔ ضلع کلکٹرس سے کہا گیا ہے کہ وہ رقم خرچ کرنے کے بعد یوٹیلائزیشن سرٹیفکٹ داخل کریں۔ جی او کے مطابق مانسون 2025 میں ریاست کے تقریباً تمام اضلاع میں موسلا دھار بارش کے نتیجہ میں 25 تا 28 اگست بھاری نقصانات ہوئے۔ کاماریڈی، میدک، نرمل اور نظام آباد میں زائد نقصانات ریکارڈ ہوئے ہیں۔ کاماریڈی ضلع میں 2 دن کے دوران 50 سنٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ متصل اضلاع میں 25 تا 40 سنٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ تمام ذخائر آب کی سطح مکمل ہوگئی اور پانی اطراف کے دیہاتوں میں داخل ہوگیا۔ مانسون 2025 میں معمول سے 25 فیصد زائد بارش ریکارڈ کی گئی۔ 8 اضلاع میں 65 تا 95 فیصد زائد بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔ حکومت نے فوری طور پر تعمیری اور مرمتی کاموں کے لئے 200 کروڑ کی اجرائی کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے مہلوکین کے پسماندگان کو فی کس 5 لاکھ روپئے ایکس گریشیاء کا اعلان کیا ہے جبکہ مکانات اور جائیدادوں کے نقصانات پر 50 ہزار روپئے اور بھیڑ بکریوں کے نقصانات پر فی کس 5 ہزار روپئے معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے ضلع کلکٹرس کے ساتھ ویڈیو کانفرنس میں امدادی کاموں کو جنگی خطوط پر انجام دینے کی ہدایت دی ہے۔1