بتکماں تہوار میں بغیر اجازت ڈی جے چلانے پر مقدمہ درج

   

ڈی جے پر مکمل پابندی کے بعد پولیس کی پہلی کارروائی
محمد محمود علی خان
حیدرآباد ۔ 7 ۔ اکٹوبر : سائبر آباد پولیس کمشنریٹ حدود میں واقع پیٹ بشیر آباد پولیس حدود میں بتکماں تہوار کے دوران چندرا ریڈی گارڈن کومپلی میں بغیر اجازت ڈی جے میوزک سسٹم چلانے پر پولیس نے پہلی کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کرلیا ۔ حیدرآباد کمشنر سی وی آنند نے مذہبی جلوسوں اور دیگر تقاریب میں ڈی جے میوزک کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کردی تھی ۔ مذہبی جلوسوں میں ڈی جے کا استعمال کافی حد تک بڑھ چکا تھا جس کے بعد ہر گوشہ سے ڈی جے پر پابندی کا مطالبہ کرنے کے بعد گول میز کانفرنس میں سٹی کمشنر سی وی آنند نے ڈی جے پر پابندی عائد کردی تھی ۔ ڈی جے سسٹم کے استعمال کے لیے آرگنائزرس اور ڈی جے مالکین دونوں کو سب سے پہلے پولیس سے کلینرس سرٹیفیکٹ حاصل کرنا ہوگا ۔ اجازت ملنے کے بعد پولیس کی دی گئی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اس کا استعمال کرنا چاہئے ۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے پر پولیس سخت کارروائی کرے گی ۔ ڈی جے اور پٹاخوں کی آواز سے ساونڈ پولیوشن میں اضافہ ہورہا ہے جس سے دل کے مریضوں کی طبیعت بگڑ رہی ہے ۔ گنیش تہوار اور میلاد جلوس میں بھی ڈی جے کا زیادہ استعمال عوام کے لیے تکلیف دہ ثابت ہوا ۔ مذہبی جلوسوں میں حد سے زیادہ ڈی جے کا استعمال تشویشناک ثابت ہورہا ہے ۔ پولیس نے اس پر کنٹرول کرنے کے لیے احکامات جاری کیے ۔ ڈی جے کا استعمال کرتے وقت آواز کو کنٹرول کرتے ہوئے استعمال کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ منتظمین اور ڈی جے آرگنائزرس دونوں کو ہی پولیس سے اجازت حاصل کرتے ہوئے پولیس کی دی گئی ہدایت پر عمل کرنا ہوگا ۔ 20 ستمبر کو سٹی کمشنر سی وی آنند نے احکامات جاری کرتے ہوئے امتناعی احکامات جاری کئے جس پر فوری طور پر عمل کیا جارہا ہے ۔ ڈی جے کے استعمال کے دوران نوجوان ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے سڑکوں پر تماشہ کررہے ہیں ۔ سٹی کمشنر کی اس کوشش کو ہر گوشہ سے تائید حاصل ہورہی ہے ۔ ڈی جے آرگنائزرس کے لیے مشکل مرحلہ ہوگا لیکن شہر میں ساونڈ پولیوشن میں کمی ہوگی ۔۔