لندن : ایک برطانوی کمپنی نے پہلی مرتبہ خواتین وکلا کے لیے حجاب متعارف کرایا ہے۔برطانیہ کی عدالتوں میں خواتین وکلا کو سفید وگ پہننے پر مجبور تو نہیں کیا جاتا لیکن وگ کی جگہ پہننے کے لیے کوئی لباس بھی مخصوص نہیں کیا گیا ہے۔تاہم اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے برطانیہ میں وکلا کے لیے لباس بنانے والے ڈیزائنر آئوی اینڈ نارمینٹن نے چہارشنبہ کو حجاب کی ایسی سیریز متعارف کروائی جنہیں عدالتوں میں پہنے جانے والے لباس کے مطابق بنایا گیا ہے۔سفید اور سیاہ رنگ کے امتزاج کے اس حجاب سے سر ڈھکنے والی خواتین کے لیے آسانی پیدا ہوگئی ہے، جن میں ایک بڑی تعداد مسلم خواتین وکلا کی بھی ہے۔آئوی ایند نارمینٹن کی بانی بیرسٹر کارلیا نے عرب نیوز کو بتایا کہ امید ہے یہ حجاب اب اور بھی زیادہ مسلم خواتین کو قانون کے شعبہ کی جانب راغب کرنے کا سبب بنے گا۔