برطانیہ کی روس اور اس کے مددگاروں پر مزید پابندیاں

   

لندن: برطانیہ نے یوکرین جنگ میں روس کی مدد کرنے والوں پر مختلف کیٹیگری میں 100 سے زائد پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ پیر کے روز سے ان پابندیوں کا اعلان روس کی یوکرین میں جنگ کے تین سال مکمل ہونے پر کیا گیا ہے۔روس اور یوکرین کی جنگ کا آغاز 24 فروری 2022 کو ہوا تھا۔ اب تیسرے سال سے اس جنگ کے خاتمے کی کوششیں امریکہ کی طرف سے شروع کیے گئے مذاکرات کی شکل میں شروع ہو چکی ہیں۔تاہم برطانیہ نے ایسے موقع پر جب جنگ کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی سعودی میزبانی میں کوشش کی جا رہی ہے یوکرین جنگ کے حوالے سے یہ اب تک کی سب سے بڑی تعداد میں پابندیاں عائد کی ہیں۔برطانوی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق ان نئی پابندیوں کا نشانہ روس کی فوجی مشینری سے متعلق ادارے اور وہ ملک یا ادارے ہیں جو روس کی مدد کر رہے ہیں۔یاد رہے اس یوکرینی جنگ کے آغاز سے جنوری 2025 تک برطانیہ نے 1900 کی تعداد میں شخصیات اور اداروں کو پابندیوں کا نشانہ بنا رکھا ہے۔تازہ ترین برطانوی پابندیوں کی زد میں کئی دوسرے ملکوں کی کمپنیاں اور شخصیات آگئی ہیں۔ ان میں وسط ایشیائی ریاستوں کے علاوہ چین، بھارت، ترکیہ اور تھائی لینڈ بھی شامل ہیں۔