فنی و تجارتی نقصانات صرف 13.33 فیصد۔ مدھیہ پردیش میں شرح 60 فیصد سے زیادہ
حیدرآباد 16 اکٹوبر ( سیاست نیوز ) برقی ٹرانسمیشن میں تلنگانہ کے جملہ فنی اور تجارتی نقصانات مالیاتی سال 2020-21 میں قومی اوسط سے بھی بہت کم ہوگئے ہیں۔ پاور فینانس کارپوریشن لمیٹیڈ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق تلنگانہ کے مجموعی ٹکنیکل اور تجارتی نقصانات جملہ 13.33 فیصد ہی رہ گئے ہیں جبکہ قومی اوسط بہت زیادہ یعنی 22.32 فیصد ہے ۔ در اصل تلنگانہ کے جملہ فنی اور تجارتی نقصانات بی جے پی اقتدار والی بیشتر ریاستوں سے کم ہی درج کئے گئے ہیں۔ سال 2020-21 میں تلنگانہ کے فنی اور تجارتی نقصانات 13.33 فیصد ہی رہ گئے ہیں جبکہ سابقہ ایک سال میں نقصان کا تناسب 21.92 فیصد تھا ۔ اس کے برخلاف آندھرا پردیش میں فنی اور تجارتی نقصانات کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ۔ یہ نقصانات سابق میں10.77 فیصد سے بڑھ کر سال 2020-21 میں 27.25 فیصد رہ گئے ہیں۔ دمن اور دیپ کی برقی کمپنیوں کے نقصانات سب سے کم یعنی 4.48فیصد ہیں جبکہ دادرا اور نگر حویلی میں نقصانات کی شرح 5.17 فیصد اور کیرالا میں 7.76 فیصد ہیں۔ ناگالینڈ میں سب سے زیادہ ٹکنیکل و تجارتی نقصانات ہیں ۔ وہاں نقصانات کا تناسب 2020 – 21 میں 60.39 فیصد درج کیا گیا ہے جبکہ جموں و کشمیر میں یہ تناسب 59.28 فیصد رہا ہے ۔ انڈمان و نکوبار جزائر میں نقصانات کا تناسب 51.94 فیصد درج کیا گیا ہے ۔ بی جے پی کے اقتدار والی ریاست مہاراشٹرا میں سابق میں یہ ٹکنیکل و تجارتی نقصانات کا تناسب 20.28 فیصد تھا جو اب بڑھ کر 41.47 فیصد تک پہونچ گیا ہے جبکہ مہاراشٹرا میں یہ تناسب 18.56 فیصد سے بڑھ کر 25.54 فیصد ہوگیا ہے ۔ ہریانہ میں ٹکنیکل و تجارتی نقصانات کا تناسب 17.05 فیصد اور اترپردیش میں27.12 فیصد ہوگیا ہے ۔ بی جے پی کے اقتدار والی ایک اور ریاست کرناٹک میں یہ تناسب 27.12 فیصد ہوگیا ہے آسام میں نقصانات کا تناسب 18.73 فیصد کا نقصان بتایا گیا ہے ۔ گجرات بی جے پی کے اقتدار والی وہ واحد ریاست ہے جہاں برقی ٹرانسمیشن میں ٹکنیکل و تجارتی نقصان کی شرح 11.35 فیصد کے ساتھ کم درج کی گئی ہے ۔ رپورٹس کے مطابق برقی کمپنیوں کو سب سے زیادہ 31 فیصد مالیہ صنعتی صارفین سے موصول ہوتا ہے جبکہ 12 فیصد مالیہ تجارتی صارفین سے ہوتا ہے ۔ حالانکہ گھریلو صارفین کی تعداد جملہ برقی سپلائی میں 32 فیصد ہوتی ہے لیکن مالیہ فراہمی میں اس کا تناسب 25 فیصد ہے ۔ زرعی صارفین 24 فیصد بجلی استعمال کرتے ہیں اور مالیہ 23 فیصد وصول ہوتا ہے ۔