طرابلس : سوشل میڈیا پر موت کی افواہ پھیلنے کے بعد شامی حکومت کے سربراہ کے کزن اور متنازعہ کاروباری شخصیت رامی مخلوف نے اپنی خاموشی توڑ دی۔انہوں نے ہنگامہ آرائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی طویل غیر موجودگی کے بعد منظر عام پر آکر یہ ثابت کردیا کہ وہ زندہ ہیں۔ انہوں نے دھمکی آمیز پیغامات بھیجے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ بشارالاسد اور رامی مخلوف کو ’’جنگ کے سوداگر‘‘ کہا جاتا ہے۔ دونوں میں لڑائی کسی نا کسی شکل میں جاری رہتی ہے۔سیرین اکانومی وہیل(رامی مخلوف) نے اپنی موت کی افواہ کی تردید کی اور اپنے فیس بک پیج پر ایک نئی پوسٹ میں پوچھا کہ کیا موت کی یہ افواہ کسی چیز کو بْنی جانے کے لیے آزمائشی بلبلہ ہے یا اس کی فائل بند کرنے کا آغاز ہے؟۔انہوں نے کہا کہ کیا ہم نے میڈیا میں موت کی خبر کے بارے میں جو کچھ سنا وہ کسی چیز کے بْنے جانے کا امتحانی بلبلہ ہے؟۔ایسی آوازیں آرہی ہیں کہ اس فائل کو بند کیا جائے کیونکہ اس کردار کا دل آج بھی ایمان، دیانت، خلوص اور محبت سے بھرا ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’جادو گر کا جادو الٹ ہوگیا‘۔انہوں نے اپنی “ناانصافی” کا ایک بار پھر عہد کیا اورعن قریب رہائی کی بات کی۔قابل ذکر ہے کہ سوشل میڈیا پر گذشتہ گھنٹوں کے دوران طرطوس گورنری میں شیخ بدر روڈ پر ایک ٹریفک حادثے میں مخلوف کی موت کی خبر دی تھی جو بعد میں جھوٹی نکلی۔