بغیر شرائط استعفیٰ نہیں دوں گا: رحمت بیگ مدینہ میں مقیم

   

حیدرآباد۔2۔ستمبر(سیاست نیوز)مرزا رحمت بیگ مدینہ منورہ میں ہوٹل گلنار طیبہ کی ساتویں منزل پر مقیم ہیں اور وہ مستعفی ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ رکن قانون ساز کونسل واضح یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر انہیں مستعفی کروانا ہے تو پہلے ان کے مطالبات کو پورا کیا جائے بصورت دیگر وہ قانون ساز کونسل کی رکنیت سے مستعفی نہیں ہوں گے۔بتایاجاتاہے کہ مرزا رحمت بیگ 29 اگسٹ کو دن میں 11:30 بجے سعودی ائیر لائنس کی پروازSV867 کے ذریعہ جدہ پہنچ گئے اور وہاں سے انہوں نے مکہ مکرمہ میں ایک روز کے قیام کے بعد مدینہ منورہ کا سفر کیا جہاں وہ مقیم ہیں۔مرزا رحمت بیگ جو 27 اگسٹ کو بغرض ادائیگی عمرہ مکہ مکرمہ روانہ ہوئے تھے انہیں جدہ ائیر پورٹ پہنچتے ہی صدر مجلس نے حیدرآباد واپس ہونے کی ہدایت دی تھی اور وہ احرام سے باہر آنے کا جواز بتاتے ہوئے عمرہ کی تکمیل کے بعد جدہ۔ممبئی ‘ ممبئی ۔حیدرآباد پرواز سے اندرون 8گھنٹے حیدرآبا دواپس ہوئے اور ’صدرمجلس ‘ کی ہدایت کے مطابق رکن اسمبلی نے انہیں ’صدر‘ کے پاس پیش کیا جہاں ان کی ’خاطر تواضع‘ کے بعد انہیں پارٹی سے خارج کرنے اور قانون ساز کونسل کی رکنیت سے مستعفی ہونے کی ہدایت دیتے ہوئے روانہ کردیا گیا لیکن 29 اگسٹ کو تلنگانہ قانون ساز کونسل پہنچ کر اپنا استعفیٰ پیش کرنے کے بجائے مرزارحمت بیگ نے ممبئی سے ٹکٹ بک کرواتے ہوئے بنگلورو ۔جدہ پہنچ گئے ۔ممبئی کے کسی ایجنٹ کے ذریعہ ٹکٹ بکنگ اور اپنی پرواز کے دوران رحمت بیگ نے بعض افراد سے رابطہ کرتے ہوئے انہیں اپنے موقف سے آگاہ کردیا اور کہا کہ وہ اپنی قانون ساز کونسل کی رکنیت سے مستعفی ہونے کے لئے تیار ہیں لیکن ان کے بعض مطالبات ہیں جو کہ اگر پورے کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں وہ مستعفی ہوں گے اور اگر ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں وہ مستعفی نہیں ہوں گے کیونکہ’جماعت‘ کے اختیار میں جو تھا وہ جماعت نے کیا اور اب ان کے اختیار میں جو ہے وہ خود کریں گے ۔ رحمت بیگ بذریعہ سڑک بنگلورو روانہ ہوئے جہاں ’کمپے گوڑا انٹرنیشنل ائیر پورٹ ‘ سے جدہ کے لئے روانہ ہوگئے ۔ذرائع کے مطابق رحمت بیگ نے ’قیادت‘ پر یہ واضح کردیا ہے کہ وہ بغیر شرائط کے کونسل کی رکنیت سے مستعفی ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں اسی لئے ان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش نہ کی جائے۔ رحمت بیگ کے موقف نے پارٹی قائدین و کارکنوں میں بے چینی کی کیفیت پیدا کی ہوئی ہے کیونکہ رحمت بیگ جیسا شخص جو ’غلامی ‘ کی مثال بنا ہوا تھا اگر وہ بغاوت کرسکتا ہے تو ایسی صورت میں ایسے کتنے’’ذہنی غلام ‘‘ ہوں گے جو وفادار قائدین و کارکنوں کے بھیس میں جماعت کے قائدین سے قریب رہتے ہوئے اپنے کاروبار انجام دے رہے ہیں۔3