بنگلہ دیش مکہ معاہدے میں شامل ہونے کیلئے تیار

   

ریاض: 24 اگست (ایجنسیز) دو جونیئر وزراء نے کہا کہ بنگلہ دیش سعودی عرب پاکستان اور ترکی کے درمیان سیکیورٹی پر مرکوز دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے، ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی فیصلے کی رہنمائی ملک کے قومی مفادات کریں گے۔ 7 اگست کو مکہ میں دستخط کیے گئے اس معاہدے میں اجتماعی دفاع کے لیے ایک فریم ورک قائم کیا گیا ہے اور یہ طے کیا گیا ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ نومنتخب وزیر مملکت برائے امور خارجہ، ہمایوں کبیر نے کہا کہ بنگلہ دیش اپنے مفادات اور عالمی معیشت اور تجارت کی بدلتی ہوئی حرکیات کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودی عرب پاکستان اور ترکی پر مشتمل کسی اقتصادی یا دفاعی فریم ورک میں شامل ہونے کے امکان کے حوالے سے مثبت نقطہ نظر رکھتا ہے۔ ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے، سرکاری خبر رساں ایجنسی بی ایس ایس جمعہ کی رپورٹ کے مطابق کبیر نے کہا کہ حکومت ’بنگلہ دیش‘ فرسٹ کی پالیسی اور قومی مفادات کو ترجیح دینے والی ایک متوازن خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کی وجہ سے ڈھاکہ اس دفاعی معاہدے میں شامل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ ہو دیش معمول کی سفارتی مصروفیات کے ذریعے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو بھی مضبوط کرے گا، جس میں تجارت اور عوام کے درمیان رابطے پر توجہ دی جائے گی۔