بومئی نے پی ایس آئی گھوٹالہ میں اشوت نارائن کا دفاع کیا

   

بنگلور، 5 مئی: کرناٹک کے وزیر اعلی بسواراج بومئی نے چہارشنبہ کو کانگریس لیڈروں پر ریاست کے اعلیٰ تعلیم کے وزیر سی این اشوت نارائن پر پی ایس آئی بھرتی گھوٹالہ کے سلسلے میں بے بنیاد الزامات لگانے پر تنقید کی۔مسٹر بومئی نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ “کانگریس حملہ کرکے بھاگنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ انہیں اس کام میں کامیابی نہیں ملے گی۔ کانگریس نے اپنے اقتدار میں رہنے کے دوران سوالنامے لیک ہونے یا پی ایس آئی اور دیگر امتحانات میں بے ضابطگیوں کے معاملے میں کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کانگریس کے کچھ لیڈروں کو گرفتار کیا گیا ہے اور اس کے بعد سے وہ پی ایس آئی گھوٹالے کی تحقیقات میں سامنے آنے والی سچائیوں سے پریشان ہیں۔ انہوں نے یہ تبصرہ کرناٹک اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سدارمیا کے پی ایس آئی گھوٹالے کی جانچ ہائی کورٹ کے موجودہ جج کی سربراہی میں کرانے کا مطالبہ کرنے کے تناظر میں کیا۔مسٹر سدارمیانے کرناٹک کے وزیر داخلہ آراگا گیانیندر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے سے نمٹنے میں ناکامی پر استعفیٰ دیں اور مسٹر نارائن کو پی ایس آئی بھرتی گھوٹالہ میں ملزم امیدواروں کے ساتھ روابط رکھنے پر برخاست کریں۔انہوں نے یقین دلایا کہ اگر کوئی دستاویز یا ثبوت ملے تو انکوائری کریں گے اور ملزمان کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس گھوٹالے کی منصفانہ تحقیقات کرائے گی۔