مویشی پالنے والے ہندو طبقہ اور گورکھشکوں کے درمیان جنگ، حکومت کے خلاف سڑکوں پر احتجاج
تلنگانہ میں بھی غور کرنے کا وقت آگیا ، علمائے دین ، دانشور اور مسلمان خصوصی حکمت عملی تیار کریں
حیدرآباد ۔ 19 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : قربانی اسلام کا ایک اہم شعار ہے لیکن شریعت میں حکمت اور امن کے تحفظ کو الین ترجیح دی گئی ہے ۔ حیدرآباد کے مسلمانوں اور علمائے دین کے ساتھ دانشوروں کے لیے یہ وقت جذباتی سیاست کا نہیں ہے بلکہ معاشی حکمت عملی اپنانے کا ہے ۔ یہ وقت سنجیدگی سے حالات کو سمجھنے اور سوچنے کا ہے کہ کس طرح پرامن اور خاموش قدم کے ذریعہ قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کو ان کے اپنے ہی معاشرے کے سامنے بے نقاب کیا جائے ۔ عیدالاضحی کے موقع پر ملک بھر میں بالخصوص تلنگانہ اور حیدرآباد کے مضافاتی علاقوں میں نام نہاد گورکھشکوں کی بڑھتی ہوئی غنڈا گردی اور ہنگامہ آرائی ۔ قانون ہاتھ میں لینے کے واقعات نے مسلم برادری کو ایک نئے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے ۔ اس کشیدہ صورتحال کے لیے اب حیدرآباد کے مختلف حلقوں کی جانب سے ایک ہی آواز ابھر رہی ہے کہ اب ہمیں جذباتی ہونے کے بجائے گہرائی سے سوچنا چاہئے ۔ اس ’ سوچنا چاہئے ‘ کی مہم کے پیچھے ایک ایسی منفرد معاشی حکمت عملی چھپی ہے ۔ جس کا براہ راست اور عملی نمونہ اس وقت مغربی بنگال کی منڈیوں میں صاف دکھائی دے رہا ہے ۔ حیدرآباد اور اس کے اطراف و اکناف کے اضلاع میں بڑے جانوروں سے لدی گاڑیوں کو روکنا تاجروں کو ہراساں کرنا اور پولیس کی مبینہ جانبداری اب ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے ۔ شرپسند عناصر کا بنیادی مقصد مسلمانوں کو مشتعل کرنا اور شہر کا امن و امان خراب کرنا ہے ۔ اب وقت آگیا ہے ۔ مسلمانوں کو روایتی ردعمل دینے کے بجائے یہ سوچنا چاہئے کہ کیا شرپسندوں کے بچھائے ہوئے اشتعال انگیزی کے جال میں پھنسنا دانشمندی ہے ؟ کیا ہم اپنی خریداری کی طاقت کو ایک خاموش اور موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں ؟ اس سوچ کے تحت علمائے کرام اور سنجیدہ حلقے اس بات پر غور کریں اگر موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے بڑے جانوروں کی خریداری سے کم از کم ایک یا دو سال گریز کیا جائے تو شرپسندوں کا پورا ایجنڈا ہی فیل ہوجائے گا ۔ مغربی بنگال میں تشکیل پانے والی بی جے پی حکومت نے بڑے جانوروں کی قربانی کے خلاف نئے نئے قوانین نافذ کردئیے ۔ جس کے بعد مغربی بنگال کے مسلمانوں نے اس سوچ پر عمل کرتے ہوئے قربانی کے لیے بڑے جانوروں کی خریداری میں شدید عدم دلچسپی کا اظہار کیا ۔ جس کے بعد وہاں کی منڈیوں کا نقشہ بدل گیا ۔ مغربی بنگال میں مویشی پالنے اور انہیں عیدالاضحی کے موقع پر فروخت کرنے کا کاروبار بڑے پیمانے پر ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے لوگ ہی کرتے ہیں ۔ بڑے جانوروں کی خریداری سے مسلمانوں کے پیچھے ہٹتے ہی کروڑوں روپئے مالیت کے جانور منڈیوں میں کھڑے رہے ۔ انہیں مسلمان خریدار دستیاب نہیں ہوا جس سے ہندو مویشی پالنے والوں کا سال بھر کا سرمایہ ڈوبنے لگا ۔ جس کا یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ اب ہندو برادری کے لوگ اور مویشی پالنے والے خود ہی اپنی حکمت اور شرپسند پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کررہے ہیں ۔ تلنگانہ کے مسلمانوں ، علمائے دین اور دانشوروں کو مغربی بنگال کے اس منظر نامے سے سبق لیتے ہوئے سنجیدگی سے سونچنا چاہئے جب تک مسلمان بڑے جانور خریدتے رہیں گے ۔ یہ شرپسند ’ مذہبی محافظ ‘ بند کر غنڈہ گردی کرتے رہیں گے ۔ لیکن جیسے ہی مسلمان مارکٹ سے پیچھے ہٹ جائیں گے یہ لڑائی مذہبی نہیں رہے گی بلکہ خود ان کے اپنے لوگوں کی معاشی لڑائی بن جائے گی ۔ جانور پالنے والا ہندو طبقہ خود ان گو رکھشکوں کے خلاف کھڑا ہوجائے گا جو ان کا روزگار تباہ کررہے ہیں ۔ 2/k/b