آر ایس ایس اور محاذی تنظیموں کی جانب سے نفرت کی سیاست کا نوجوانوں پر کوئی اثر نہیں
حیدرآباد۔23۔اکٹوبر(سیاست نیوز) نوجوان نفرت کا شکار ہونے سے محفوظ رہ سکتا ہے اگراسے محبت کے فوائد سے واقف کروایا جائے۔تلنگانہ میں بھارت جوڑو یاترا کے قدم رکھنے کے بعد یہ نظریہ غیر درست ثابت ہونے لگا ہے کہ نوجوانوں کے دلوں میں نفرت پید ا ہوچکی ہے اور اس نفرت کا خاتمہ ممکن نہیں ہے کیونکہ راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا میں نوجوانوں کی شرکت اور ان کے جوش و جذبہ سے یہ بات ثابت ہورہی تھی کہ وہ نفرت کے خلاف چلائی جانے والی اس مہم کا حصہ ہیں اور کسی بھی صورت میں ملک کو نفرت کی آگ میں جھونکنے کی کوشش کرنے والوں کو جگہ نہیں دیں گے۔نوجوان جو بھارت جوڑویاترا میں شرکت کے لئے پہنچے تھے ان کا کہناہے کہ نفرت کے ذریعہ کی جانے والی سیاست انہیں روزگار یا بہتر ماحول اور زندگی فراہم نہیں کرسکتے بلکہ محبت اور اخوت کے ساتھ بھائی چارہ کو فروغ دیتے ہوئے وہ ایک دوسرے کے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔یاترا کے دوران نوجوانوں کے جوش و خروش کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا رہا تھا کہ حقیقی ہندستان یہی ہے جو نفرت کے خاتمہ اور محبت کے ساتھ پرسکون زندگی گذارنا چاہتا ہے لیکن جو لوگ اپنے اقتدار کے لئے قتل عام و نفرت کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں وہ دلوں میں زہر پھیلارہے ہیں۔م