فصلوں کو نقصان اور آمدنی میں کمی، حکومت کی پالیسیوں کا خمیازہ غریب کسان بھگت رہے ہیں
حیدرآباد ۔ 29 ۔ جولائی (سیاست نیوز) آندھراپردیش میں بہتر مانسون کے باوجود کسانوں کو راحت نہیں ملی ہے۔ جاریہ مانسون میں ابھی تک آندھراپردیش میں معمول سے 20 فیصد زائد بارش ریکارڈ کی گئی لیکن مختلف فصلوں کی پیداوار کی شرح میں کمی کا رجحان برقرار ہے۔ نقصانات کے سبب کسان محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ کئی کسانوں نے کاشتکاری ترک کرتے ہوئے مستری کا کام شروع کردیا ہے جبکہ بعض علاقوں میں کسانوں کی جانب سے دودھ کے کاروبار کی اطلاعات ملی ہیں۔ محکمہ موسمیات نے ریاست میں بہتر بارش کی نشاندہی کی ہے لیکن حکومت کے اس بات پر تشویش ہے کہ کسان فصلوں کے نقصانات سے ابھر نہیں پارہے ہیں۔ محکمہ زراعت کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق دھان اور مختلف دالوں کے علاوہ مرچ کی پیداوار میں 25 فیصد کمی واقع ہوئی ہے ۔ کسان ہلدی ، گنا ، پیاز مکئی، پھلی اور دیگر فصلوں کے بارے میں بھی مطمئن نہیں ہیں۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مذکورہ اشیاء کی پیداوار میں 26 تا 50 فیصد کی کمی درج کی گئی ۔ کسانوں نے کاٹن اور سن فلاور کی پیداوار سے اپنی توجہ کم کردی ہے۔ ریاست میں مختلف علاقوں میں کسان پیداوار کی امدادی قیمت سے محروم ہیں اور انہیں فصلوں کے لئے سرمایہ کاری کے مطابق رقم حاصل نہیں ہو پارہی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آندھراپردیش کی دو ریاستوں میں تقسیم کے بعد سے کسانوں کو مسائل کا سامنا ہے۔ حکومت کی غلط پالیسیوں کا خمیازہ کسانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ کڑپہ ضلع سے تعلق رکھنے والے ایک کسان نے بتایا کہ معاشی مسائل اور قرض کے بوجھ کے سبب اس نے 1.21 ہیکٹر اراضی فروخت کردی ہے۔ باوجود اس کے پانچ لاکھ روپئے کا قرض قابل ادائیگی ہے ۔ آندھراپردیش میں آبپاشی پراجکٹ کی تعمیر میں حکومت کی کوتاہی کے سبب فصلوں کو پانی سیراب نہیں ہو پارہا ہے ۔ حکومت نے آبپاشی کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی نہیں کی ہے۔ کرنول کے فخرالدین نامی کسان نے بتایا کہ وہ کپاس کی کاشت کر رہے ہیں اور دیگر فصلوں کے مقابلہ یہ کسی قدر منافع بخش ہیں۔ وائی ایس جگن موہن ریڈی حکومت نے کسانوں کو فصلوں کی امدادی قیمت یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں محکمہ زراعت کو ضروری ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ر