بیرون ملک مقیم ( این آر آئی ) ووٹرس کیلئے الیکشن کمیشن کی بڑی راحت

   

سماعت کیلئے خاندان کے افراد پیش ہونے کی سہولت ، اصل دستاویزات کے بجائے زیراکس بھی قبول
حیدرآباد ۔ 28 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : ریاست تلنگانہ بالخصوص گریٹر حیدرآباد میں جاری ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظر ثانی (SIR) مہم کے انتخابی حکام نے بیرون ملک مقیم ہندوستانی شہریوں (NRI) ووٹرس کے لیے ایک انتہائی اہم راحت بخش فیصلہ کیا ہے ۔ بیرون ملک موجود ووٹرس جن کے نام ڈرافٹ لسٹ میں موجود ہیں لیکن میاپنگ نہ ہونے یا فارمس میں غلطیوں کے باعث نوٹس جاری ہوئے ہیں ۔ انہیں شخصی طور پر ہندوستان آنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ الیکشن آفس کے ذرائع کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ہدایات کے مطابق ایسے معاملات جہاں بیرون ملک مقیم ووٹرس ذاتی طور پر ERO یا انتخابی حکام کے سامنے سماعت میں حاضر نہیں ہوسکتے ان کے خاندان کے افراد (والدین ۔ شریک حیات یا دیگر رشتہ دار ) ان کی طرف سے پیش ہو کر تفتیشی عمل مکمل کرواسکتے ہیں ۔ انکوائری کے دوران اگر اصل دستاویزات دستیاب نہ ہوں تب بھی انتخابی حکام نے واضح کیا ہے کہ ووٹر کی تفصیلات کی تصدیق کرنے والی 12 منظور شدہ دستاویزات میں سے کسی بھی درست اور واضح زیراکس کاپی کو قبول کیا جائے گا ۔ حکام نے تاکید کی ہے کہ جمع کرائی گئی زیراکس کاپیاں بالکل درست اور متعلقہ بیرون ملک ووٹرس کی ہونی چاہئیں ۔ جمع شدہ کاغذات باریک بینی سے جانچ کے بعد SIR قواعد کے مطابق ووٹر لسٹ میں اندراج کا عمل مکمل کیا جائے گا ۔ ہندوستانی شہریت کے حامل بیرون ملک مقیم افراد جن کا ووٹ یہاں قائم ہے ان کے خاندان کے افراد نے پہلے ہی اینومرلیشن فارمس جمع کروائے تھے ۔ فارمس میں کچھ تکنیکی غلطیوں نام کی وضاحت کے بغیر ووٹس یا 2002 کے ریکارڈ سے میاپنگ نہ ہونے پر یہ نوٹس جاری کئے جارہے ہیں ۔ الیکشن کمیشن حکام کے اس لچکدار اور مثبت رویے سے ہزاروں ( این آر آئی ) خاندانوں کو بڑی راحت ملی ہے جنہیں یہ خدشہ تھا کہ بیرون ملک ہونے کی وجہ سے ان کے ووٹس فہرست سے منسوخ کردئیے جائیں گے ۔۔ 2/m/b