بیگوسرائے میں کنہیا کمار کو مسلمانوں کی بڑی حمایت حاصل ہے۔ ویڈیو

لوک سبھا الیکشن کا آغاز ہوچکا ہے ۔ پہلے مرحلے کی رائے دہی 11اپریل کوہوئی جبکہ دوسرے مرحلے کی رائے دہی 18اور تیسرے مرحلے کی 26او رچوتھی مرحلے کی رائے دہی 29اپریل کو مقرر ہے ۔ جبکہ ماباقی تین مرحلوں میں مزید رائے دہی کے بعد نتائج23مئی کو جاری کئے جائیں گے۔

اس الیکشن میں اگر سب سے موضوع بحث اور ہاٹ سیٹ کوئی ہے تو وہ بیگوسرائے ہے جہاں سے بی جے پی بڑ بولے لیڈر اور مرکزی وزیر گری راج سنگھ امیدوار ہیں تو ان کے سامنے ایک نوجوان لیڈر‘ جواہرلال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کے سابق صدر کنہیا کمار کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے امیدوار ہیں۔

آر جے ڈی نے یہاں سے تنویر عالم کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ جیسے جیسے الیکشن رائے دہی کی تاریخ قریب آرہی ہے بیگوسرائے پر چرچا تیز ہوتی جارہی ہے۔

مختلف ٹیلی ویثرن چیانلوں اور سوشیل میڈیا ٹرولس کے ذریعہ اس بات کا تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کنہیا کمار کے ساتھ بیگوسرائے کے مسلمان نہیں ہے۔

بتادیں بیگوسرائے میں مسلمانوں رائے دہندوں کی تعداد 1.7لاکھ ہے ۔ مگر ایک روز قبل وائیر ل ہوئے اس ویڈیو میں صاف طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ کنہیا کمار کے ساتھ نہ صرف نوجوان بلکہ ضلع بیگوسرائے کے معمر مسلمان بھی ہیں جو کنہیا کمار کی ریالیوں ‘ عوامی جلسوں میں پہلی صف میں بیٹھ کر ان کی حمایت کا اعلان کررہے ہیں۔

کنہیا کمار کا شمار انقلابی نوجوان میں ہوتا ہے جو فرقہ واریت کی بنیاد پر الیکشن لڑنے کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ کنہیا کمار نے ماضی میں بھی اس بات پر زوردیا ہے کہ ہندو‘مسلم ‘ سکھ ‘ عیسائی او ردیگر مذہب کے لوگ ہندوستانی گلدستہ کے پھول ہیں جس کو نفرت کی بنیاد پر بانٹنے کاکام مودی حکومت اور بی جے پی ٹیم کررہی ہے۔

کنہیا کمار کی مقبولیت نہ صرف بیگوسرائے بلکہ ملک بھر ہے اس کی ایک تازہ مثال اس ویڈیو میں دیکھی جاسکتی ہے۔ ویڈیو ضرور دیکھیں

TOPPOPULARRECENT