لوک سبھا میں ہنگامہ، ناماناگیشور راؤ کا سخت موقف، ایوان سے واک آؤٹ
حیدرآباد۔/8 فروری، ( سیاست نیوز) لوک سبھا میں آج بی آر ایس ارکان نے احتجاج میں شدت پیدا کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر میں رکاوٹ پیدا کردی۔ اڈانی مسئلہ پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کرتے ہوئے بی آر ایس پارلیمانی پارٹی قائد ناما ناگیشورراؤ کی قیادت میں ارکان نے وزیر اعظم کی تقریر کے دوران ہنگامہ آرائی کی۔ وزیر اعظم کی تقریر میں رکاوٹ پر بی جے پی ارکان نے سخت احتجاج کیا جس پر ایوان میں شوروغل کے مناظر دیکھے گئے۔ صدرجمہوریہ کے خطبہ پر تحریک تشکر کا جواب دینے کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی اپنی نشست سے اٹھے۔ ناما ناگیشورراؤ نے اس موقع پر اڈانی گروپ کی بے قاعدگیوں کا مسئلہ شدت کے ساتھ اٹھایا۔ انہوں نے ہنڈن برگ رپورٹ کی تحقیقات کیلئے مشترکہ پارلیمانی پارٹی کی تشکیل اور ایوان میں مباحث کی مانگ کی۔ ناگیشور راؤ کے احتجاج پر وزیر اعظم اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔ اسپیکر اوم برلا کی جانب سے تیقن نہ دیئے جانے پر ناما ناگیشورراؤ نے ساتھی ارکان کے ساتھ ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ بعد میں بی آر ایس ارکان نے پارلیمنٹ کے احاطہ میں مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے پاس مظاہرہ کیا اور اپنے مطالبات دہرائے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے بی آر ایس ارکان نے احتجاج میں حصہ لیا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پارٹی کی جانب سے مباحث کی مانگ کرتے ہوئے اسپیکر اور صدرنشین کو نوٹس دی گئی۔ راجیہ سبھا کے قائد ڈاکٹر کے کیشوراؤ کے علاوہ کے آر سریش ریڈی، روی چندرن، بی بی پاٹل، رنجیت ریڈی اور دوسروں نے احتجاج میں حصہ لیا۔ر