دس برسوں میں پارلیمنٹ میں مودی حکومت کی تائید، کے ٹی آر کو چیف منسٹر بنانے مودی سے اجازت مانگی گئی
حیدرآباد ۔ 9 ۔ فروری (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بی آر ایس اور بی جے پی میں ’’فیوی کال ریلیشن‘‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ 2011 کے ایم ایل سی انتخابات میں اس وقت کی ٹی آر ایس ارکان نے بی جے پی کو ووٹ دیا تھا ۔ اسمبلی میں گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر مباحث میں مداخلت کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ گزشتہ 10 برسوں میں بی آر ایس نے مودی حکومت کی ہر موقع پر تائید کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور بی آر ایس کے درمیان قدیم روابط ہیں اور ان دونوں کا اٹوٹ رشتہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 ء سے 2024 ء تک لوک سبھا میں ہر مسئلہ پر بی آر ایس نے مودی حکومت کی تائید کی۔ نوٹ بندی ، طلاق ثلاثہ ، دفعہ 370 ، جی ایس ٹی اور کسان بل کے موقع پر بی آر ایس نے مودی حکومت کی تائید کی۔ ایک موقع پر خصوصی طیارہ سے بی آر ایس ارکان کو دہلی روانہ کیا گیا جہاں انہوں نے مودی حکومت کے حق میں ووٹ دیا ۔ 10 برسوں تک دونوں پارٹیوں نے ساتھ کام کیا ہے ۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کے ٹی آر کو چیف منسٹر بنانے کیلئے کے سی آر نے وزیراعظم نریندر مودی سے اجازت طلب کی تھی جس کا اظہار وزیراعظم نے تلنگانہ کے دورہ کے موقع پر کیا۔ مودی نے موروثی سیاست کی مخالفت کرتے ہوئے کے ٹی آر کو چیف منسٹر کی اجازت نہیں دی تھی۔ ریونت ریڈی نے ریمارک کیا کہ کے سی آر اپنے ساتھیوں کو ہر بات سے واقف نہیں کراتے۔ وہ کچھ باتیں کہتے ہیں اور کچھ چھپاتے ہیں۔ چیف منسٹر کی تبدیلی پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے لیکن کے سی آر نے مودی سے اجازت طلب کی تھی۔ انہوں نے پوچارم سرینواس ریڈی سے کہا کہ اگر وہ شخصی ملاقات کرتے ہیں تو مزید معلومات فراہم کرتے ہیں۔ پوچارم سرینواس ریڈی نے بی جے پی سے کسی بھی مفاہمت کی تردید کی اور کہا کہ چیف منسٹر کی تبدیلی کے لئے مودی سے اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ارکان اسمبلی فیصلہ کرنے کیلئے کافی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بی آر ایس میں قیادت کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے اور ہر کسی کو کے سی آر کی قیادت پر بھروسہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی سے بی آر ایس کا کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ مجلس ہماری فرینڈلی پارٹی ہے۔ 1