بی آر ایس بھی انتخابی موڈ میں۔ چار لوک سبھا امیدواروںکا اعلان

   

کھمم سے ناما ناگیشور راؤ ‘ محبوب آباد سے ایم کویتا ‘ پدا پلی سے کے ایشور اور کریمنگر سے ونود کمار امیدوار ہونگے
حیدرآباد 4 مارچ (سیاست نیوز) بھارت راشٹرسمیتی نے عام انتخابات 2024 کیلئے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کردی ہے۔ پارٹی کے آفیشل X ہینڈل کے ذریعہ 4امیدواروں پر مشتمل فہرست جاری کرکے کہاگیا ہے کہ پدا پلی حلقہ لوک سبھا سے سابق وزیر کوپلہ ایشور کو امیدوار بنایا گیا ہے جبکہ حلقہ کریم نگر سے سابق نائب صدرنشین منصوبہ بندی کمیشن مسٹر بی ونود کمار کو امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ دو موجودہ ارکان پارلیمان حلقہ لوک سبھا کھمم سے ناما ناگیشور راؤ اور حلقہ محبوب آباد سے ایم کویتا کو امیدوار بنانے کا اعلان کیا گیا ۔بھارت راشٹرسمیتی کے ٹکٹ پر کئی امیدوار بالخصوص موجودہ ارکان پارلیمان خود مقابلہ کیلئے آمادہ نہیں ہیں لیکن پارٹی کی جانب سے انہیں مقابلہ کیلئے رضامند کرنے کوشش کی جار ہی ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ بھارت راشٹرسمیتی نے پہلی فہرست کے طور پر جن امیدواروں کا اعلان کیا ہے ان 4 امیدواروں کو بھی پارٹی نے آئندہ انتخابات میں سخت مقابلہ کیلئے تیار کرکے ٹکٹ دیا ہے۔بی آر ایس نے آج متعدد اضلاع کے قائدین سے ملاقات اور مشاورت کے بعد ان امیدوارو ںکا اعلان کیا ہے جبکہ حلقہ لوک سبھا پدا پلی اور حلقہ لوک سبھا کریم نگر کے امیدواروں کو گذشتہ یوم ہی قطعیت دی جاچکی تھی لیکن آج ان 4امیدوراوں کا باضابطہ اعلان کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے پارٹی سربراہ چندر شیکھر راؤ اور کارگذار صدر بی آر ایس ٹی راما راؤ نے اضلاع کے پارٹی قائدین سے ملاقات کرکے انتخابات میں پارٹی کی حکمت عملی پرتبادلہ خیال کیا اور یہ باور کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے بی آر ایس کا اصل مقابلہ بی جے پی سے ہے لیکن ان اجلاسوں میں شریک ضلعی قائدین نے کارگذار صدر بی آر ایس کو زمینی حقائق سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد کئی قائدین کانگریس ارکان اسمبلی و وزراء سے رابطہ میں ہیں اسی لئے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ بی آر ایس و بی جے پی میں مقابلہ ہے ۔بی آر ایس کی جانب سے 4 امیدواروں کے اعلان کے بعد بھی کہا جار ہاہے کہ پارٹی کے پاس ریاست کے تمام 17 حلقہ جات لوک سبھا پر سنجیدہ مقابلہ کیلئے امیدوار دستیاب نہیں ہیں اور پارٹی اسکریننگ کمیٹی امیدواروں کے انتخاب پر کئی خواہشمندوں سے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔ذرائع کے مطابق موجودہ ارکان پارلیمان کی جانب سے مقابلہ سے انکار کے بعد پارٹی قائدین ان کی جگہ بہتر اور طاقتور امیدواروں کے سلسلہ میں حلقہ جات لوک سبھا کی سطح پر پارٹی قائدین و بااثر کارکنوں سے بات کر رہی ہے تاکہ امیدواروں کو قطعیت دی جائے ۔ 3