عوام جان لیں ‘ اب یو پی آئی ادائیگیوں پر بھی فیس عائد کی جائے گی

,

   

2000 روپئے سے زائد کی ادائیگی پر فیس کی تجویز ۔ مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتارامن نے پارلیمنٹ میں قانونی ترامیم پیش کیں

نئی دہلی 4 اگسٹ ( ایجنسیز ) ہندوستان میں اب یو پی آئی ادائیگیاں بھی مفت نہیں رہیں گی اور حکومت ان پر مرچنٹ فیس عائد کرنے کی تیاری کر رہی ہے ۔ پارلیمنٹ میں آج ملک کے پی منٹ قوانین میں تبدیلیوں کو متعارف کروایا گیا ہے ۔ اگر یہ تبدیلیاں منظور ہوجاتی ہیں تو پھر ملک میں یو پی آئی ادائیگیوں پر بھی حکومت فیس عائد کرسکتی ہے ۔ آج پارلیمنٹ میں پیش کردہ قوانین اسی سمت ایک قدم سمجھے جا رہے ہیں۔ یو پی آئی ادائیگیاں دنیا کا سب سے بڑا رئیل ٹائم ادائیگی کا نیٹ ورک ہے ۔ سرکاری ڈاٹا کے مطابق ماہ جولائی میں جملہ 23.6 بلین معاملتیں یو پی آئی کے ذریعہ ہوئی ہیں جن کی مالیت 29.9 ٹریلین روپئے ( 313.5 بلین ڈالرس ) کی بتائی گئی ہیں۔ وال مارٹ نے اپنی ادائیگیوں کیلئے نیا ٹیب فون پے متعارف کروایا ہے تو الفابیٹ کے GOOGL.O کی جانب سے نیا ٹیب گوگل پے ڈامیننٹ پے منٹس کا آغاز کیا ہے جو یو پی آئی کے ذریعہ ہے ۔ صنعتی حلقوں کی جانب سے طویل عرصہ سے کہا جا رہا ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کا مزید فروغ مشکل ہورہا ہے کیونکہ پے منٹ فرمس کو یو پی آئی ادائیگیوں پر کوئی آمدنی نہیں ہوتی جس کے نتیجہ میں وہ اس کی بہتری کیلئے مزید سرمایہ کاری سے قاصر ہیں۔ وزیر فینانس نرملا سیتارامن کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کردہ پے منٹ اینڈ سٹلمنٹ سسٹمس ایکٹ میں ترمیم اگر ہوجاتی ہے تو ڈیجیٹل ادائیگی پر مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ متعارف کروایا جاسکتا ہے ۔ صنعتی اور ریگولیٹری ذرائع نے یہ بات بتائی ۔ ذرائع نے کہا کہ اس تبدیلی کے ذریعہ مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ متعارف کروانے کی بنیاد فراہم ہوگی تاہم فیس کی حد اور اس کا کہاں اطلاق ہوگا اس پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ۔ ذرائع نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ تفصیلاتبتائیں۔ ہندوستان کی وزارت فینانس ‘ سنٹرل بینک اور نیشنل پے منٹ اتھاریٹی نے فوری طور پر اس پر کسی تبصرہ کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا ہے ۔ مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ ایک فیس ہے جو تاجروں کی جانب سے بینکس اور پے منٹ سرویس پرووائیڈر کو ڈیجیٹل معاملت کی تکمیل پر ادا کی جاتی ہے ۔ ہندوستان میں کریڈٹ کارڈز پر 1.5 فیصد مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ لاگو ہوتا ہے جبکہ ڈیبٹ کارڈز ( اے ٹی ایم ) پر 0.9 فیصد ایم ڈی آر عائد ہوتا ہے لیکن یو پی آئی ادائیگیاں فی الحال کسی فیس سے آزاد ہیں۔ کہا گیا ہے کہ پالیسی سازوں کی جانب سے دو وسیع امکانات پر غور کیا جا رہا ہے ۔ ایک امکان یہ ہے کہ ایک مخصوص سطح کے اوپر ادائیگی پر ایم ڈی آر عائد کیا جائے یا پھر کسی تاجر کے سالانہ ٹرن اوور کی بنیاد پر فیس عائد کی جائے ۔ایک تجویز یہ ہے کہ چارجس صرف بڑے تاجروں پر عائد کی جائیں اور صارفین اور چھوٹے تاجرین کی یو پی آئی ادائیگیوں کو فیس سے آزاد ہی رکھا جائے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے 2000 روپئے سے زائد مالیت کی یو پی آئی ادائیگیوں پر فیس عائد کرنے کی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاہم ابھی کسی بھی مسئلہ پر کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ۔