بی آر ایس سے مسلمانوں کی بیزارگی کا اظہار، پارٹی کیخلاف مہم ہونے کا امکان

   

مخالف مسلم نظریات کا فروغ، مسلمانوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے پارٹی کی کوشش

حیدرآباد۔12۔مارچ(سیاست نیوز) بھارت راشٹر سمیتی سے مسلمانوں نے بیزارگی کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے اور پارٹی میں موجود مسلم قائدین ہی اپنی قیادت سے بدظن نظرآنے لگے ہیں کیونکہ مسلم قائدین جو عرصہ دراز سے پارٹی میں موجود ہیں اور تحریک تلنگانہ کی جدوجہد میں شامل رہنے کے علاوہ پارٹی کو اقتدار میں لانے کی کوششوں کا حصہ بنے رہے ان کو پارٹی کی جانب سے نظرانداز کئے جانے کے علاوہ اب پارٹی کی جانب سے مخالف مسلم نظریات کو فروغ دئیے جانے پر شدید اعتراض کرتے ہوئے پارٹی کے مسلم قائدین ناراضگی کا اظہار کرنے لگے ہیں اور اب یہ کہنے لگے ہیں کہ بھارت راشٹر سمیتی اپنے سیکولر کردار کے ذریعہ نہیں بلکہ مسلمانوں کی مجبوری کا فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن آئندہ انتخابات سے قبل پارٹی میں شامل کئی مسلم قائدین عوام کے درمیان پہنچ کرمخالف بی آر ایس پروپگنڈہ کی منصوبہ بندی کرنے لگے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے خوف سے بھارت راشٹر سمیتی مسلمانوں اور ان کی فلاح و بہبود کو نظرانداز کرتے ہوئے خود کو بی جے پی سے زیادہ کٹر ہندو سیاسی جماعت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کوشش میں وہ مسلمانوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اکثریتی طبقہ کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ وہ بھی موافق ہندو نہیں بلکہ مخالف مسلم ہے اور مسلمانوں کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مسلمانوں کے پاس بی آر ایس کے ساتھ رہنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے جبکہ ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کو بادشاہ گر کا موقف ہے اور تلنگانہ کے زائد از 45 حلقہ جات اسمبلی پر مسلم رائے دہندے اثر انداز ہوسکتے ہیں ‘ بی آر ایس قیادت کو اس بات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے کہ ریاست میں مسلمان اگر متحدہ طور پر کسی اور سیاسی جماعت کے ساتھ نہ بھی جائیں لیکن بی آر ایس کے خلاف ہوجائیں تو پارٹی کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ بھارت راشٹر سمیتی میں موجود سینیئر وبانی پارٹی قائدین کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے ساتھ ساتھ ریاست میں مسلمانوں کو نظرانداز کئے جانے کی شکایات اور ان کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے انہیں لیت ولعل کا شکار بنانے کی کوشش یہ واضح کر رہی ہے کہ پارٹی مسلمانوں سے قربت اختیار کرنے کے بجائے ان سے دوری کو ظاہرکرنے کی حکمت عملی پر اتر آئی ہے۔ بی آر ایس کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے مسلم قائدین میں بھی یہ احساس شدت سے پیدا ہونے لگا ہے کہ حکومت اکثریتی ووٹوں سے محرومی کے خوف کے سبب مسلمانوں سے دوری اختیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اگر یہی صورتحال رہتی ہے تو ایسی صورت میں ریاست کے مسلمانوں کی برہمی ووٹ کی شکل میں نظرآنے کے قوی امکانات ہیں کیونکہ مسلمان اپنی سیاسی اہمیت کو برقرار رکھنے کے لئے بھارت راشٹر سمیتی کے خلاف مہم کا آغاز کرسکتے ہیں ۔ پارٹی میں موجود قائدین کہا کہنا ہے کہ وہ مسلمانوں کی صورتحال اور اپنی رائے سے اقتدار سے قربت رکھنے والے قائدین کو واقف کرواچکے ہیں اور ان پر یہ واضح کرچکے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے خوفزدہ کرتے ہوئے مسلم رائے دہندوں کو پارٹی سے جوڑے رکھنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی کیونکہ اگر تلنگانہ اسمبلی انتخابات سے قبل مسلمانوں کو نظرانداز کرنے کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں اسمبلی انتخابات کے دوران اپنے حق رائے دہی کو غیر اہم ہونے سے بچانے اور اپنے سیاسی مستقبل کو تاریکی کا شکار ہونے سے محفوظ رکھنے کے لئے مسلم رائے دہندے حکومت کی آلۂ کار تنظیموں کے ہاتھوں کھلونا نہیں بنیں گی اور نہ ہی سیکولر ازم یا جمہوریت کی بقاء کے نام پر بی آ ر ایس کے ساتھ رہیں گی بلکہ وہ اپنی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے کندھوں کا استعمال کرنے نہیں دیں گے ۔م