مذہبی مقامات اور دستوری حقوق کے تحفط کا مطالبہ ‘کئی ارکان پارلیمنٹ و کارکن زیرِ حراست
نئی دہلی۔ 29 ستمبر(ایجنسیز)ملک کے مختلف حصوں میں مساجد اور دیگر عبادت گاہوں کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے، انہدام اور بلڈوزر کارروائیوں کیخلاف منگل کودہلی کے جنتر منتر پر ہزاروں افراد نے احتجاج کیا۔ احتجاج میں مختلف مسلم تنظیموں، سماجی کارکنوں، طلبہ اور شہریوں نے حصہ لیا اور عبادت گاہوں کے تحفظ، مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کے احترام کا مطالبہ کیا۔ مختلف مسلم تنظیموں اور کمیونٹی گروپس کے احتجاج میں مقررین نے کہا کہ عبادت گاہوں کا تحفظ اور تمام شہریوں کے مذہبی حقوق کی پاسداری ایک جمہوری معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ دہلی پولیس نے متعدد قائدین، منتخب نمائندوں، سماجی کارکنوں اور طلبہ کو حراست میںلیا ہے جن میں لوک سبھا ارکان پارلیمنٹ اقرا حسن، ضیاء الرحمٰن برق اور محب اللہ ندوی کے علاوہ جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر ملک محتشم خان اور اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن کے قومی صدر عبدالحفیظ شامل ہیں۔ مظاہرین نے مذہبی آزادی، عبادت گاہوں کے تحفظ اور آئینی حقوق کے حق میں نعرے لگائے۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ مساجد اور دیگر عبادت گاہیں صرف مذہبی مقامات نہیں بلکہ شہریوں کے آئینی طور پر محفوظ مذہبی حقوق سے بھی وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق مذہبی مقامات کے تحفظ کے مطالبے کیلئے پرامن اور جمہوری انداز میں آواز اٹھانا شہریوں کا حق ہے۔احتجاج کے دوران منتخب نمائندوں اور کمیونٹی رہنماؤں کی حراست پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ پرامن اجتماع اور اختلافِ رائے کے جمہوری حق کا احترام کیا جانا چاہیے۔منتظمین نے واضح کیا کہ وہ مساجد اور دیگر عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے پرامن اور آئینی ذرائع سے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔