فلم اسٹار الو سریش کامندر سے بلند آواز پر اعتراض

   

لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر بحث ،سوشل میڈیا پر ویڈیو، کمشنر پولیس نے جواب دیا

حیدرآباد 29 ستمبر (سیاست نیوز) اقلیتی طبقہ کی جانب سے اگر مذہبی تہواروں میں لاؤڈ اسپیکرس کے بیجا استعمال پر اعتراض کیا جائے تو اُسے فرقہ وارانہ رنگ دیا جاتا ہے لیکن ٹالی ووڈ کے اسٹار الو سریش نے شیخ پیٹ کے علاقہ میں ایک مندر سے رات دیر گئے بڑی آواز میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر اعتراض جتایا۔ الو سریش کے اِس اعتراض اور پولیس میں شکایت پر سوشل میڈیا میں ایک نئی بحث چھڑ چکی ہے۔ فلم اسٹار نے وضاحت کی کہ اُن کا اعتراض محض بڑی آواز سے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر ہے اور اُنھوں نے کسی خاص مذہب کو نشانہ نہیں بنایا ہے۔ سریش جو شیخ پیٹ کے علاقہ میں مقیم ہیں، اُنھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک ویڈیو شیئر کیا جس میں ونوبھا نگر کی ہنومان مندر سے رات دیر گئے 2 اور 3 بجے کے وقت بڑی آواز میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کا حوالہ دیا گیا۔ اُن کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی دن سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ رات کے اوقات میں بڑی آواز سے لاؤڈ اسپیکر کے نتیجہ میں ضعیف العمر افراد، بچوں اور ورکنگ کلاس کو مشکلات پیش آرہی ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ مقامی افراد کی جانب سے فلم نگر پولیس کو پہلے بھی شکایت کی گئی لیکن پولیس نے گنیش وسرجن یعنی 25 ستمبر تک تحمل کا مشورہ دیا۔ فیسٹیول کے اختتام کے باوجود بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ پولیس کمشنر حیدرآباد نے فلم اسٹار کے پوسٹ کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ اِس معاملہ کو ضروری کارروائی کے لئے فلم نگر اسٹیشن ہاؤز آفیسر سے رجوع کیا گیا ہے۔ فلم اسٹار نے کمشنر پولیس سے اظہار تشکر کیا۔ واضح رہے کہ اِس پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا میں سریش پر بعض گوشوں کی جانب سے سخت تنقید کی جارہی ہے۔V/1