بی جے پی کے الزامات مسترد، پب کلچر پر کنٹرول کا اشارہ، پولیس پر کوئی دباؤ نہیں، وزیر داخلہ محمد محمود علی کا انٹرویو

   

رشیدالدین
حیدرآباد۔6۔ جون ۔ وزیر داخلہ جناب محمد محمود علی نے واضح کردیا کہ جوبلی ہلز مبینہ اجتماعی عصمت ریزی معاملہ میں جو بھی قصوروار ثابت ہوں گے ، انہیں بخشا نہیں جائے گا۔ پولیس اس واقعہ کی مکمل غیر جانبداری اور سائنٹفک انداز میں تحقیقات کر رہی ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ تحقیقات میں سست روی اور خاطیوں کو بچانے سے متعلق بی جے پی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی قیادت میں تلنگانہ پولیس کی کارکردگی ملک بھر میں مثالی بن چکی ہے۔ جرائم پر قابو پانے اور امن و امان کی برقراری میں تلنگانہ پولیس ملک میں نمبر ون ہے۔ روزنامہ سیاست کو خصوصی انٹرویو میں جناب محمد محمود علی نے جوبلی ہلز واقعہ کے پس منظر میں اپوزیشن کے الزامات اور پولیس کی تحقیقات کا تفصیلی طور پر خلاصہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی رکن اسمبلی نے غیر ضروری طور پر اس تنازعہ میں ان کے پوترے کو گھسیٹنے کی کوشش کی ہے جبکہ پوترے کا اس تنازعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں اپنے پوترے اور ان کے دوستوں کو اچھی طرح جانتا ہوں ۔ شادی کی تیاریوں کے سلسلہ میں فرقان احمد گھر پر مصروف ہیں اور انہوں نے کسی بھی پارٹی میں شرکت نہیں کی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیس کی تحقیقات کی تکمیل کے بعد حقائق منظر عام پر آجائیں گے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ ریاست میں جرائم پر قابو پانے کے معاملہ میں سنجیدہ ہیں اور اس معاملہ میں پولیس کو واضح ہدایات دی گئی ہیں۔ وزیر داخلہ نے شہر میں بڑھتے پب کلچر پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ وقت آچکا ہے کہ پب کلچر پر کنٹرول کیا جائے ۔ جناب محمود علی نے کہا کہ والدین اور سرپرستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی نقل و حرکت اور دوست احباب کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں تاکہ نوجوان نسل کو جرائم سے بچایا جاسکے۔
س : جوبلی ہلز واقعہ پر تازہ ترین موقف کیا ہے ؟
وزیر داخلہ : پولیس نے واقعہ میں ملوث تقریباً تمام ملزمین کو حراست میں لے لیا ہے اور صرف ایک ملزم کی گرفتاری باقی ہے۔ پولیس نے انتہائی سائنٹفک انداز میں اس معاملہ کی جانچ کی ہے۔ مختلف زاویوں سے حقیقی خاطیوں کا پتہ چلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ پولیس کو ابتداء میں جو شکایت ملی تھی ، اس کے مطابق کارروائی کی گئی ، بعد میں دوسری شکایت کی گئی جس میں سنگین جرم کا انکشاف ہوا۔ پولیس نے کارروائی کے سلسلہ میں کوئی تاخیر نہیں کی ہے۔ عنقریب پولیس اس معاملہ کی تحقیقات مکمل کرلے گی۔
س : واقعہ کے پس منظر میں پب میں پارٹی کا تذکرہ کیا جارہا ہے، اس کی حقیقت کیا ہے ؟
وزیر داخلہ : بعض اسکولی طلبہ نے پب میں دوپہر کے وقت پارٹی کا اہتمام کیا تھا اور یہ پارٹی شراب سے پاک تھی کیونکہ نابالغ بچے شریک تھے۔ پارٹی کے بعد جب بچے واپس ہوگئے ، اس کے بعد یہ واقعہ پیش آیا ہے ۔ ابتداء میں پولیس کو کچھ اور اطلاع دی گئی اور نابالغ بچوں کے معاملہ کے سبب پولیس نے مقدمہ درج کرنے میں کچھ وقت لیا۔ جب معاملہ صاف ہوگیا تو پولیس نے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیتے ہوئے ملزمین کو حراست میں لے لیا۔ ضبط شدہ گاڑیوں کی فارنسک ماہرین سے جانچ کرتے ہوئے شواہد اکھٹا کئے گئے۔ میں نے ڈائرکٹر جنرل پولیس مہیندر ریڈی سے بات چیت کی اور پولیس کو واضح ہدایت دی گئی ہے کہ کسی بھی خاطی کو بخشا نہ جائے۔ تحقیقات کے سلسلہ میں پولیس پر کوئی دباؤ نہیں ہے اور قانون اپنا کام کرے گا ۔
س : بی جے پی قائدین کے الزامات پر آپ کیا کریں گے ؟
وزیر داخلہ : انتہائی افسوس کی بات ہے کہ سیاسی فائدہ اٹھانے کیلئے بی جے پی بے بنیاد الزامات عائد کر رہی ہے۔ بی جے پی کا مقصد اس واقعہ کی آڑ میں حکومت کے امیج کو متاثر کرنا ہے۔ اگر بی جے پی قائدین کے پاس واقعہ کے سلسلہ میں کوئی ثبوت ہو تو انہیں چاہئے کہ وہ میڈیا میں جاری کرنے کیلئے تحقیقاتی افسروں سے ملاقات کرتے ہوئے حوالے کریں تاکہ تحقیقات میں مدد ملے۔ بی جے پی کو تحقیقات سے زیادہ حکومت کو نشانہ بنانے کی فکر ہے۔ تلنگانہ کے عوام بی جے پی کی پالیسی اور منصوبہ کو اچھی طرح جانتے ہیں اور عوام کا حکومت اور چیف منسٹر پر اٹوٹ اعتماد ہے۔
س : ریاست میں امن و ضبط کی صورتحال اور حالیہ دنوں میں خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ پر وزیر داخلہ کی حیثیت سے کیا موقف ہے ؟
وزیر داخلہ : جرائم پر قابو پانے کیلئے پولیس ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ حالیہ عرصہ میں پیش آئے واقعات کے قطع نظر آج بھی حیدرآباد خواتین کے لئے ملک کا سب سے محفوظ شہر ہے۔ حالیہ واقعات دراصل سماجی اور معاشی امور سے مربوط ہیں۔ چند واقعات کو بنیاد بناکر امن و ضبط کی صورتحال کو ابتر قرار دینا مضحکہ خیز ہے۔ ایک بھی واقعہ ایسا نہیں ہے جہاں خاطیوں کو چھوڑ دیا گیا۔ جرم کرنے والا چاہے کتنا ہی طاقتور اور بااثر کیوں نہ ہو پولیس سختی کے ساتھ کارروائی کر رہی ہے۔ حالیہ واقعات پر مجھے دکھ ہے اور مجھے یقین ہے کہ خاطیوں کے خلاف پولیس سخت کارروائی کرے گی۔ حالیہ جرائم کے واقعات پر میں نے پولیس عہدیداروں کے ساتھ مشاورت کرتے ہوئے جلد از جلد تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ سوشیل میڈیا پر صورتحال کو بڑھا چڑھاکر پیش کیا جارہا ہے ۔ میڈیا چاہے وہ پرنٹ ہو یا الیکٹرانک انہیں سماج کے تئیں اپنی ذمہ داری نبھانا چاہئے ۔ کسی بھی شخص کی کردارکشی کی کوشش ٹھیک نہیں ہے۔
س : شہر میں بڑھتے پب کلچر کے نتیجہ میں جرائم میں اضافہ اور نوجوان نسل کے بگاڑ کو کس طرح روکا جاسکتا ہے ؟
وزیر داخلہ : حیدرآباد انفارمیشن ٹکنالوجی کا مرکز ہے اور دنیا بھر سے بین الاقوامی سیاح حیدرآباد کا رخ کرتے ہیں۔ سرمایہ کاری اور سیاحت کے پس منظر میں حکومت نے فراخدلانہ پب پالیسی اختیار کی تھی لیکن اب وقت آچکا ہے کہ ہم پب کلچر پر قابو پانے کے اقدامات کریں۔ میں اس بارے میں سخت گیر اقدامات کیلئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے بات چیت کروں گا تاکہ نوجوان نسل کو پب کلچر کی خرابیوں سے دور رکھا جاسکے۔