دورسلطنت آصفیہ میں تعمیر کردہ تین منزلہ باؤلی، اروندکمار نے ٹوئیٹر پر تصاویر شیئر کئے
حیدرآباد ۔ 22 جنوری (سیاست نیوز) سلطنت آصفیہ کی تاریخی 300 سالہ قدیم بنسی لال پیٹ باؤلی کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر کی خصوصی دلچسپی کی وجہ سے تاریخی عظیم ورثہ کے تحفظ اور اس کی عظمت رفتہ کی بحالی کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ جی ایچ ایم سی اور ایچ ایم ڈی اے کی جانب سے شہر کی قدیم سیڑھیوں والی باؤلیوں کی عظمت رفتہ بحال کرنے کے اقدامات کررہے ہیں۔ دونوں اداروں نے ایک دوسرے کے اشتراک سے 44 سیڑھیوں والی باؤلیوں کو دوبارہ بحال کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں 6 مقامات باپوگھاٹ، گچی باؤلی، گڈی ملکاپور، شیواباغ، بنسی لال، سیتارام باغ پر جنگی خطوط پر کام کیا گیا۔ بنسی لال پیٹ نلاپوچماں مندر کے قریب 300 سالہ ناگنا کنٹہ سیڑھیوں پر مشتمل باؤلی کی عظمت رفتہ بحال کرنے کیلئے تیزی سے کام جاری ہے۔ باؤلی میں موجود کچرا اور جھاڑیوں کی صفائی کی جارہی ہے۔ محکمہ بلدی نظم و نسق کے اسپیشل چیف سکریٹری اروند کمار نے اس تاریخی قدیم باؤلی کی بحالی کیلئے کئے جانے والے کاموں کی تصاویر اپنے ٹوئیٹر پر شیئر کیا ہے اور کہا کہ جنگی خطوط پر صاف صفائی اور قدیم باؤلی کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کے کام جاری ہے۔ کئی سال قبل یہ باؤلی خشک ہوگئی ہے جس میں کچرا وغیرہ بھر گیا ہے۔ باؤلی کے اطراف و اکناف صاف صفائی کے کام کئے جارہے ہیں۔ تین منزلہ اس سیڑھیوں پر مشتمل باؤلی کے خوبصورت ڈیزائن ہیں۔ دورسلطنت آصفیہ میں اس باؤلی کو تعمیر کیا گیا تھا۔ تب اس باؤلی کے ذریعہ عوام کو پینے کا پانی سربراہ کیا جاتا تھا۔ن