تروپتی لڈو میں گھی کی ملاوٹ کا معاملہ ، پولیس تحقیق میں نیا موڑ

   

دو عہدیداروں پر بدعنوانی کے الزامات ، کیس نیلور اینٹی کرپشن بیورو عدالت منتقل

حیدرآباد ۔ 15 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : ریاست آندھرا پردیش میں تروپتی مندر میں لڈو میں گھی کی ملاوٹ کے معاملے میں پولیس کی تفتیش نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے ۔ سکنڈ ایڈیشنل جونیر سیول جج کی عدالت نے کیس کو نیلور کی اینٹی کرپشن بیورو عدالت میں منتقل کردیا ۔ تروپتی دیواستھانم کے دو اہلکاروں پر بدعنوانی کے الزام میں خصوصی تفتیش ٹیم کے اقدام کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا ۔ ٹی ٹی ڈی کے مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ کے ایک سینئیر اسسٹنٹ اور سپرنٹنڈنٹ کے خلاف انسداد بدعنوانی ایکٹ کے سیکشن 7 اور 8 کے تحت درخواست دائر کی گئی تھی ۔ تروپتی لڈو کے کیس نے ملک بھر میں چند دنوں قبل سوشیل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی اور ملک بھر میں احتجاج بھی کیا گیا تھا ۔ سی بی آئی کے جوائنٹ ڈائرکٹر ( حیدرآباد ) دیریش پربھو کی قیادت میں ایک پانچ رکنی ایس آئی ٹی کے ذریعہ تحقیقات کی جارہی ہے ۔ اس معاملہ میں ایس آئی ٹی نے چار ملزمین کو گرفتار کیا ہے ۔ اے آر ڈیری تامل ناڈو کے ایم ڈی راجو راجا شیکھرن ، پومل جین اور وپن جین اتھراکنڈ کے بھولے بابا آرگنک ڈیری کے ڈائرکٹرس اور اپوروا ونئے کانت چاورا ویشنوی ڈیری اسپیشلٹی لمٹیڈ تروپتی سی ای او اہم ملزمین گرفتار ہوچکے ہیں ۔ انہیں تروپتی کے سب جیل میں عدالتی تحویل میں رکھا گیا ہے ۔ ایس آئی ٹی نے کارروائی کو اے سی بی کورٹ منتقل کرنے کے لیے عدالت سے منظوری حاصل کرلی ہے ۔ ایس آئی ٹی نے تمام ضروری دستاویزات اور شواہد کو جمع کرلیے ہیں ۔ ملزمین کو عدالت نے ضمانت دینے سے انکار کردیا تھا ۔ اب آئندہ ضمانت کی درخواست ملزمین کو اے سی بی کورٹ میں جمع کرنی ہوگی ۔ ایس آئی ٹی اپنی تحقیقات کو جاری رکھتے ہوئے اپنی رپورٹ کو سپریم کورٹ میں بہت جلد پیش کرے گی ۔ سپریم کورٹ نے حکم ملنے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی داخل کیا جاسکتا ہے ۔۔ ش