حکومت کے احکامات کی کھلے عام خلاف ورزی، طلبہ کا عنقریب احتجاج کا منصوبہ
حیدرآباد۔19فروری(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے علاوہ نواحی علاقوں میں موجود کالجس کی جانب سے طلبہ کے تعلیمی اسنادات فیس ادا نہ کرنے کے سبب واپس نہ کئے جانے پر پریشان حال طلبہ نے شہر حیدرآباد میں بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے کی منصوبہ بندی کا آغاز کردیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ طلبہ کی بڑی تعداد اپنے کالجس میں جمع سرٹیفیکیٹ کے حصول کے لئے جلد ہی بڑے پیمانے پر احتجاج منظم کرنے کی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہیں کیونکہ ریاستی حکومت کی جانب سے باضابطہ ہدایات کے باوجود کالجس کے انتظامیہ بالخصوص اقلیتی کالجس کے کالج انتظامیہ کی جانب سے سرٹیفیکیٹ کی واپسی کے بجائے انہیں فیس ادا کرنے کے لئے دباؤ ڈالے جانے کی شکایات عام ہونے لگی ہیں اور طلبہ اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے تعلیمی اسناد نہ ہونے کے سبب کوئی بھی قدم اٹھانے سے قاصر ہیں۔ حکومت کی جانب سے فیس بازادائیگی اسکیم کے تحت داخلہ حاصل کرتے ہوئے تعلیم مکمل کرنے والے طلبہ کی بڑی تعداد حکومت کی جانب سے فیس بازادائیگی کی رقم کالج کو منتقل نہ کئے جانے کی سزاء بھگت رہی ہے اور کہا جار ہاہے کہ حکومت کی جانب سے فیس ادا نہ کے جانے کے سبب کالجس کے انتظامیہ کی جانب سے فیس وصول کرتے ہوئے سرٹیفیکیٹ جاری کئے جارہے ہیں۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے واضح طو پر یہ احکام جاری کئے جاچکے ہیں کہ کسی بھی کالج کو طلبہ کے تعلیمی اسناد رکھنے کا کوئی اختیارنہیں ہے اور اگر کوئی کالج انتظامیہ کی جانب سے تعلیمی اسناد واپس نہیں کئے جاتے ہیں اور فیس کے لئے دباؤ ڈالا جاتا ہے تو ایسی صورت میں کالج انتظامیہ کے خلاف کاروائی کی گنجائش موجود ہوگی ۔ ان احکامات کے باوجود بہت سارے کالجس بالخصوص اقلیتی کالجس کے ذمہ داروں کی جانب سے طلبہ کے اسناد کی حوالگی کے بجائے انہیں ہراساں کیا جارہا ہے اور دباؤ ڈالا جا رہاہے کہ وہ اپنی فیس جمع کروائیں کیونکہ حکومت کی جانب سے فیس اب تک کالجس کو وصول نہیں ہوئی ہے اسی لئے کالجس کو اپنے اخراجات کی تکمیل میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے کالجس کو فیس بازادائیگی اسکیم کے تحت رقومات کی اجرائی کے سلسلہ میں متعدد مرتبہ توجہ دہانی کے باوجود کوئی کاروائی نہ کئے جانے پر کالجس کے ذمہ داروں میں بھی شدید ناراضگی پائی جاتی ہے لیکن کالجس کے ذمہ داروں کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے کالجس کے انتظامیہ کی جانب سے طلبہ سے فیس وصول کیا جانا اور انہیں ہراساں کیا جانا غیر قانونی ہے اسی لئے کسی بھی کالج کو اس بات کا اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنے ہی طلبہ کے مستقبل کو تاریک بنانے کے لئے ان کے اسناد حوالہ کرنے سے انکار کرے کیونکہ کئی طلبہ کو تعلیم کے ختم ہوتے ہی روزگار کی پیشکش حاصل ہونے لگی ہے لیکن کالج انتظامیہ تعلیمی اسناد واپس کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ م