تعلیم کے ذریعہ ہی کسی بھی معاشرہ اور طبقہ کی ترقی ممکن

   

سنت سیوا لعل کی یوم پیدائش تقریب ، چیف منسٹر ریونت ریڈی کا خطاب
حیدرآباد۔15فروری(سیاست نیوز) تعلیم کے ذریعہ ہی کسی بھی معاشرہ اور طبقہ کی ترقی ممکن ہے سنت سیوالعل نے اپنی زندگی کے ذریعہ یہ پیغام دیا ہے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے سنت سیوالعل کی یوم پیدائش تقاریب میں حصہ لیتے ہوئے کی گئی تقریر کے دوران یہ بات کہی۔ انہو ںنے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے بنجارہ طبقہ کے لئے متعدد اقدامات کئے جارہے ہیں اورتلنگانہ میں موجود تمام تانڈوں کی ترقی اور ان میں تعلیم کی فراہمی کے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ تانڈوں کی ترقی کے لئے ان تک پہنچنے والی تمام سڑکوں کو بی ٹی روڈ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تلنگانہ میں غریب شہریوں کو امکنہ کی فراہمی کے سلسلہ میں چیف منسٹر نے کہا کہ ریاستی حکومت نے ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ اور بی سی تمام طبقات کے لئے ریاست میں امکنہ کی فراہمی کی اسکیم تیار کی ہے اور اس پر عمل آوری کو یقینی بنایا جائے گا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے گذشتہ 70 یوم کے دوران کسی بھی تعطیل کے بغیرکام کاج کو جاری رکھا گیا ہے۔ چیف منسٹر نے بی آر ایس حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاست میں گذشتہ 10 برسوں سے آمرانہ حکمرانی تھی اور اب یہ طرز حکمرانی ختم ہوچکا ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ ریاست میں کانگریس کی عوامی حکومت ہے جو کہ عوام کے درمیان رہ کر کام کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔ چیف منسٹر اے نے کہا کہ بنجارہ طبقہ کا سرکاری ملازمتوں میں اہم کردار ہے اور وہ اس طبقہ سے تعلق رکھنے والے کئی عہدیدار اہم عہدوں پر فائز رہتے ہوئے اپنے طبقہ کی ترقی کے سلسلہ میں اقدامات کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔آئندہ پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کی کامیابی کے لئے سخت محنت کی ضرورت ہے اور انہیں توقع ہے کہ تمام طبقات کانگریس کی حمایت کے ذریعہ کانگر یس اراکین پارلیمان کی کامیابی کو یقینی بنائیں گے۔ مسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ حکومت سنت سیوا لعل کی یوم پیدائش تقاریب کے لئے مختص ایک کروڑ کے بجٹ میں مزید ایک کروڑ کا اضافہ کرتے ہوئے اسے دوکروڑ کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے بنجارہ طبقہ کی ترقی کے لئے متعدد اقدامات کی منصوبہ بندی کی جار ہی ہے اور بنجارہ طبقہ سے ملاقات سے انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے کانگریس کے افراد خاندان سے ملاقات کر رہے ہیں کیونکہ بنجارہ طبقہ کے لئے خصوصی فنڈس کی تخصیص کا سہرا مسز سونیا گاندھی کے سر جاتا ہے اور آنجہانی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے بنجارہ طبقہ کو درج فہرست قبائل میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔3