تلنگانہ اسمبلی انتخابات کو قومی جماعتوں کے مابین ٹکراو کے طور پر پیش کرنے کی کوشش

   

بی جے پی سے سنیل بنسل اور کانگریس سے پرینکا گاندھی کو ذمہ داریوں کے صورتحال پر اثرات
حیدرآباد16اگسٹ(سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات کو بی جے پی بمقابلہ کانگریس بنانے کی کوشش کی جار ہی ہے اور دونوں قومی جماعتیں سرکردہ قائدین کو تلنگانہ کی نگرانی تفویض کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہیں کہ علاقائی جماعتوں کی اہمیت اب نہیں رہی اور علاقائی جماعتوں کا وجود ریاستی مفاد میں نہیں ہے۔ بی جے پی نے سنیل بنسل کو تلنگانہ کی نگرانی تفویض کی ہے اور کانگریس سے پرینکا گاندھی کو تلنگانہ کی نگرانی تفویض کئے جانے کی اطلاعات ہیں۔ کہا جا رہاہے کہ اترپردیش کے طرز پر تلنگانہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے حکمت عملی تیار کی جانے لگی ہے ۔ سنیل بنسل نے یو پی میں دو مرتبہ بی جے پی کو اقتدار دلوانے میں جو حکمت عملی تیار کی تھی اس کے بعد اب انہیں تلنگانہ کی ذمہ داری تفویض کی گئی جس کے فوری بعد کانگریس حلقوں میں یہ بات گشت کر رہی ہے کہ پرینکا گاندھی کو تلنگانہ امور کی ذمہ داری دی جاسکتی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہناہے کہ یو پی میں دونوں قومی جماعتوں کے درمیان مقابلہ میں شدید نقصان بہوجن سماج پارٹی اور سماج وادی پارٹی کا ہوا ہے جو کہ علاقائی پارٹیاں تصور کی جاتی ہیں اور دونوں انتخابات میں ان پارٹیوں میں اقتدار سے محروم ہونا پڑا جبکہ بی جے پی نے اقتدار حاصل کیا تھا ۔ اب تلنگانہ میں اگر دونوں جماعتوں کے سرکردہ قائدین و ذمہ داران میدان میں اترتے ہیں تو یہ انتخابات میں کانگریس بمقابلہ بی جے پی کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے ۔ ان حالات میں ٹی آر ایس اپنی گرفت کو مضبوط نہیں کرپاتی ہے تو تلنگانہ راشٹر سمیتی کا حشر سماج وادی کی طرح ہوجائے گا لیکن ماہرین کا کہناہے کہ شمالی ہند کی سیاست اور جنوبی ہند کی سیاست مختلف ہیں اسی لئے یہ کہنا دشوار ہوگا کہ ٹی آرت ایس کی حالت سماج وادی پارٹی کی طرح ہو گی لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دونوں قومی جماعتوں کے قائدین میدان میں اتریں تو اس کے نتیجہ میں قومی میڈیا میں ان دو کو ہی اہمیت دی جائے گی لیکن علاقائی چیانلس اور میڈیا میں مقامی زبان سے واقف قائدین کو اہمیت حاصل رہے گی لیکن مرکزی قائدین کی موجودگی علاقائی جماعتوں کے قائدین کی اہمیت کو گھٹانے کا سبب بن سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق تلنگانہ راشٹرسمیتی دونوں جماعتوں کے قائدین کی حکمت عملی کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی منصوبہ بندی میں تبدیلی کے ساتھ اپنے قائدین کو دوسری سیاسی جماعتوں میں شمولیت سے روکنے کی کوشش میں مصروف ہے۔علاوہ ازیں تلنگانہ راشٹرسمیتی اور کانگریس کے مابین اتحاد کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہاہے لیکن ساتھ ہی ٹی آر ایس ‘ سماج وادی اور کانگریس کے اتحاد کے نتائج اور دوسری مرتبہ علحدہ مقابلہ کے سبب دونوں جماعتو ںکو ملنے والے فائدے کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔م