تلنگانہ اسمبلی کے گھیراؤ کی کوشش کو پولیس نے ناکام بنادیا

   

بی جے پی فلور لیڈر مہیشور ریڈی اور بی جے وائی ایم کارکن گرفتار، حیدرآباد یونیورسٹی کی اراضی فروخت کرنے کا الزام
حیدرآباد 18 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کے باہر آج اُس وقت صورتحال کشیدہ ہوگئی جب بی جے پی طلبہ تنظیم بی جے وائی ایم کے کارکنوں نے اسمبلی کے گھیراؤ کی کوشش کی۔ ریاستی حکومت کی جانب سے گچی باؤلی میں 400 ایکر سرکاری اراضی کے ہراج کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے بی جے وائی ایم کارکنوں کی کثیر تعداد نے اسمبلی کے روبرو احتجاج منظم کیا۔ احتجاج کی اطلاع پر پولیس نے پہلے ہی چوکسی اختیار کرلی تھی اور بیاریکیٹس نصب کرتے ہوئے بی جے وائی ایم کارکنوں کو اسمبلی میں داخلہ سے روک دیا گیا۔ اسمبلی میں بی جے پی کے فلور لیڈر اے مہیشور ریڈی نے بی جے وائی ایم کارکنوں کے احتجاج کی تائید کی اور دھرنے میں شامل ہوئے۔ پولیس نے مہیشور ریڈی اور بی جے وائی ایم کے کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ احتجاجی کارکن حکومت اور حیڈرا کے خلاف نعرے لگارہے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ سرکاری اراضیات کو فروخت کرتے ہوئے آمدنی اکٹھا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ بی جے وائی ایم کارکنوں کے احتجاج کے نتیجہ میں ٹریفک کی آمد و رفت میں خلل پڑا۔ مہیشور ریڈی نے الزام عائد کیاکہ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے اراضی کو حکومت فروخت کرنا چاہتی ہے۔ یونیورسٹی کی طلبہ تنظیمیں بھی حکومت کے فیصلے کی مخالفت کررہی ہیں۔ مہیشور ریڈی نے کہاکہ اراضی کی فروخت کے فیصلہ سے دستبرداری تک احتجاج جاری رہے گا۔ بی جے وائی ایم کے احتجاج کے نتیجہ میں پولیس کو اسمبلی کے باہر ٹریفک کو باقاعدہ بنانے میں دشواری پیش آئی۔ 1