عہدیدار کرپشن میں ملوث، رقم کی اجرائی میں تاخیر سے سرپرست پریشان
حیدرآباد۔یکم۔جون۔(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ اوورسیز اسکالر شپس کے معاملہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کی بے اعتنائی کے سبب طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگنے لگا ہے اور اولیائے طلبہ و سرپرست جو حکومت کے وعدوں پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے بچوں کو ہزاروں میل دور اعلیٰ تعلیم کے لئے روانہ کرچکے ہیں وہ اپنے بچوں کے لئے پریشان ہیں لیکن ان کی اس پریشانی کی سنوائی کے لئے کوئی تیار نہیں ہے بلکہ جب وہ کمشنریٹ کے دفتر جاتے ہیں تو انہیں کوئی مناسب جواب نہیں دیا جاتا بلکہ کہا جاتا ہے کہ سرکاری کام کاج ایسے ہی نہیں ہوتے !دوہرے مطلب والے ان جملوں کو جو لوگ سمجھتے ہیں وہ کمشنریٹ کے دفترمیں خدمات انجام دینے والے عہدیداروں کی اس بات کو سمجھ کر لین دین پر آمادہ ہوجاتے ہیں ۔ گذشتہ ہفتہ کمشنریٹ میں خدمات انجام دینے والے ایک ملازم کو اعلیٰ عہدیداروں نے رشوت ستانی کے الزام میں معطل کیا ہے لیکن اب تک اس کے احکام جاری نہیں کئے گئے بلکہ اس شخص کو 15دن تک دفترنہ آنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اوورسیز اسکالر شپس میں حصہ داری کی بات کرتے ہوئے پیشگی رقومات حاصل کرنے والے عہدیداراپنی من مانی میں مصروف ہیں اور آن لائن نظام ہونے کے باوجود امیدواروں کے انتخاب میں دھاندلی کی جا رہی ہے لیکن منتخبہ امیدواروں کو اسکالر شپس کی اجرائی کے معاملہ میں ہونے والی تاخیر طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ معمولی ملازمت اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑرہا ہے کیونکہ بیشتر طلبہ کے والدین اور سرپرست وقت پر ان کی فیس روانہ کرنے سے قاصر ہیں۔ تلنگانہ اقلیتی کمشنریٹ میں موجود عہدیداروں کی جانب سے مسلسل یہ بات کہی جاتی ہے کہ ریاستی حکومت اقلیتوں کے لئے چلائی جانے والی چیف منسٹر اوورسیز اسکالر شپس اسکیم پر مؤثر عمل آوری کو یقینی بنایا جارہا ہے لیکن عملی طور پر اس اسکیم کا مشاہدہ کیا جائے تو ریاست کے 1000 اقلیتی طلبہ کو اوورسیز اسکالرشپس کی اجرائی کی جانی ہے ۔ منتخبہ عوامی نمائندوں کی جانب سے ایوان اسمبلی میں بھی اس مسئلہ پر حکومت کو متوجہ کروائے جانے کے باوجود عہدیداران کی نمائندگیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے درخواست گذاروں کے رشتہ دارو ںکو منتخبہ عوامی نمائندوں اور ذرائع ابلاغ کے اداروں سے رجوع ہونے پر منظورہ فہرست سے ان کے ناموںکو حذف کرنے کی دھمکی دی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ اگر وہ کسی کی سفارش کرواتے ہیں یا ادباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں تو ایسی صورت میں انہیں اوورسیز اسکالرشپس کی رقومات جاری کرنے میں مزید تاخیر ہوگی ۔بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے طلبہ کے والدین و سرپرستوں کا کہناہے کہ انہیں اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر ستا رہی ہے اسی لئے وہ عہدیداروں سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار اوورسیز اسکالر شپس کی رقومات کی عدم اجرائی کے لئے ریاستی حکومت اور محکمہ فینانس کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے عوام میں حکومت کو بدنام کر رہے ہیں جبکہ کہ محکمہ فینانس کے عہدیداروں کا کہناہے کہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار فینانس میں اپنے ل جمع کروانے میں کوتاہی کے مرتکب ہیں اور ان کی جانب سے بجٹ کے حصول کیلئے کوشش نہیں کی جاتی جس کے سبب محکمہ اقلیتی بہبود کے ادارۂ جات کو بجٹ کی اجرائی میں تاخیر ہوتی ہے۔محکمہ فینانس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت اور وزارت فینانس کی جانب سے محکمہ جات اور اسکیمات کی ضرورت کے اعتبار سے بجٹ کی اجرائی عمل میں لائی جاتی ہے اور تعلیم حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور ان ترجیحی ضرورتوں کو پیش کرنے میں محکمہ کے اعلیٰ عہدیداروں کی ناکامی کے سبب طلبہ پریشانی کا سامنا کررہے ہیں۔محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عہدیدارو ںکی جانب سے انہیں بجٹ کی اجرائی کے امور پر مکمل طور پر خاموش کروانے کے سبب وہ کسی بھی عہدیدار سے رابطہ کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ اگر وہ اپنے اعلیٰ عہدیداروں کے احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے بجٹ کے حصول کی کوشش کرتے ہیں تو ایسی صورت میں ان کے خلاف کاروائی کا انہیں خدشہ ہے اسی لئے وہ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ م