تلنگانہ سے آبی غداری کرنے والے حکمرانوں کو دفن کریں گے

   

شادنگر حلقہ میں کویتا کی گھن گرج ۔ بی آر ایس اور کانگریس پر عوام کو دھوکہ دینے کا الزام ،جلسہ عام سے خطاب
شادنگر ۔9مئی ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) تلنگانہ ریاست بننے کے بارہ سال بعد بھی کسانوں کا آبپاشی کے پانی کے لیے پریشان ہونا ایک تاریخی المیہ ہے، یہ بات تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ کویتا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے سخت لہجے میں خبردار کیا کہ تلنگانہ کے ساتھ آبی غداری کرنے والی کانگریس پارٹی کو ایک کلومیٹر گہرائی میں دفن کرنا یقینی ہے۔جمعہ کے روز رنگا ریڈی ضلع کے شادنگر حلقہ کے چودر گوڑہ منڈل مرکز میں منعقدہ پالمور۔رنگا ریڈی پروجیکٹ کے حق میں عظیم الشان عوامی جلسہ میں انہوں نے شرکت کرتے ہوئے خطاب کیا۔ اس سے قبل چودر گوڑہ منڈل مرکز میں پارٹی کارکنوں کے ساتھ مل کر پہلی مرتبہ پارٹی پرچم لہرایا گیا۔ اس موقع پر پارٹی قائدین اور کارکنوں نے اُن کا شاندار استقبال کیا۔ بعد ازاں وہ کارکنوں کے ہمراہ جلسہ گاہ پہنچیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ پالمور کی بدقسمتی کی وجہ بی آر ایس اور کانگریس پارٹیاں ہیں۔ متحدہ ریاست میں آندھرا حکمرانوں کو مورد الزام ٹھہرا کر اقتدار میں آنے والی بی آر ایس نے دس سالہ دور حکومت میں تلنگانہ کے کسانوں کا گلا کاٹا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پالمور۔رنگا ریڈی لفٹ اریگیشن اسکیم کے نام پر 33 ہزار کروڑ روپئے خرچ کرنے والی سابقہ حکومت کم از کم 33 ایکڑ زمین کو بھی پانی فراہم نہ کر سکی۔انہوں نے کہا کہ صرف ٹھیکہ داروں سے ملی بھگت اور کمیشن حاصل کرنے کی خاطر پروجیکٹ کے ری ڈیزائن کے نام پر جورالا سورس پوائنٹ کو سری سیلم منتقل کیا گیا ، جس کی وجہ سے آج آندھرا کے ساتھ پانی کے تنازعات پیدا ہو رہے ہیں۔ کویتا نے سوال کیا کہ خود کو نلّملا کا شیر کہنے والے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی اپنے ہی علاقے کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر خاموش کیوں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ پالمور کی عوام نے کانگریس کو 12 ایم ایل اے کی نشستیں دی۔ لیکن اقتدار میں آئے ڈھائی سال گزرنے کے باوجود ایک ٹوکری مٹی بھی نہیں اُٹھائی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ضلع کے وزراء اور ایم ایل ایز کمیشن خوری میں مبتلا ہو کر عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں اور اس گناہ میں سب شریک ہیں۔ حکومت کو واضح الٹی میٹم دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آنے والے دسہرہ تہوار تک لکشمی دیوی پلی ریزروائر کے کام شروع کیے جائیں ، بصورت دیگر دسہرہ کے اگلے دن سے پالمور۔رنگا ریڈی پروجیکٹ کے اطراف علاقوں میں عوام کو بیدار کرنے کے لیے عظیم پدیاترا شروع کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دس سال حکومت کرنے والی بی آر ایس پارٹی نے ہر طرح سے عوام کو دھوکہ دیا۔ پارٹی میں ایک ’’گڑھے کی لومڑی‘‘ موجود تھی، جس نے بطور وزیر آبپاشی کام کرتے ہوئے ٹھیکہ داروں سے سازباز کرکے پارٹی اور ریاستی عوام دونوں کو دھوکہ دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سری سیلم سے 140 میٹر کی سطح سے لیا جانے والا پانی 50 میٹر تک محدود کر کے متحدہ پالمور کے عوام کے ساتھ شدید ناانصافی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ دس سال میں بی آر ایس اور ڈھائی سال میں کانگریس لکشمی دیوی پلی پروجیکٹ سے ایک ٹوکری مٹی بھی نہیں نکال سکے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اگر ان کی پارٹی اقتدار میں آئی تو اس پروجیکٹ کو مکمل کر کے لاکھوں ایکڑ اراضی کو پانی فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے وعدہ کیا کہ ان کی پارٹی اقتدار میں آکر آبپاشی کے شعبہ میں انقلابی تبدیلیاں لائے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی بھی پالمور کو قومی درجہ دینے کے معاملے میں تلنگانہ کے ساتھ دھوکہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ماہ کی 10 تاریخ کو ریاست کے دورے پر آنے والے وزیراعظم مودی سے مقامی رکن پارلیمان ڈی کے ارونا ملاقات کرکے پالمور پروجیکٹ کو قومی درجہ دینے، مردم شماری میں بی سی کالم شامل کرنے اور ریاستی حکومت کی جانب سے بھیجے گئے بی سی بل کی منظوری کا مطالبہ کریں۔ انہوں نے تلنگانہ رکشنا سینا کی اس آبی تحریک کی حمایت کے لیے کسانوں، نوجوانوں اور دانشوروں سے اپیل کی۔ اس جلسہ میں پارٹی کے اہم قائدین سیناپتی، ورلکشمی، مصطفی، چیملا رمیش، پانڈورنگا ریڈی، بالاجی ادے، روپ سنگھ نائک، رنجیت کمار، سری نواس، سائدولو یادو، ملکاجگری وینکٹ ریڈی سمیت متحدہ پالمور ضلع کے 20 حلقوں سے بڑی تعداد میں کارکنوں اور کسانوں نے شرکت کی۔