تلنگانہ سے ناانصافی کرنے والے وزیراعظم کو تنقید کا کوئی حق نہیں

   

نریندر مودی محاسبہ کریں، پراجکٹس اور فنڈس میں جانبداری، ریاستی وزراء کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔27۔ مئی (سیاست نیوز) ریاستی وزراء سرینواس یادو اور جی کملاکر نے وزیراعظم نریندر مودی سے سوال کیا کہ تلنگانہ کی بھلائی کے حق میں کئے گئے ایک بھی فیصلہ سے عوام کو واقف کرائیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریاستی وزراء نے ٹی آر ایس حکومت اور چیف منسٹر کے سی آر کے خلاف وزیراعظم نریندر مودی کی تقریر پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو تلنگانہ حکومت پر تنقید کا اخلاقی حق حاصل نہیں ہے کیونکہ انہوں نے تلنگانہ کے حق میں ایک بھی قدم نہیں اٹھایا ہے۔ جب مودی حکومت تلنگانہ عوام کے حق میں نہیں ہے تو پھر وزیراعظم کو تنقید کا کیا حق پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کے سی آر کی تقریب کا زیادہ تر حصہ چیف منسٹر کے سی آر پر تنقید کیلئے صرف کیا گیا ۔ سرینواس یادو نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کیا ہندوستان کا حصہ نہیں ہے ؟ کالیشورم کو قومی پراجکٹ کا درجہ دینے سے انکار کیوں ہے ؟ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے ساتھ جانبداری کا رویہ اختیار کرتے ہوئے فنڈس اور پراجکٹس کے معاملہ میں ناانصافی کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے سوال کرنے والوں کو مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کے ذریعہ ہراساں کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عوام نے جو اقتدار دیا ہے، وہ بیدخل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ تلنگانہ میں ترقی اور فلاح و بہبود کو برداشت نہ کرتے ہوئے بی جے پی نے کے سی آر حکومت کے خلاف مہم شروع کی ہے ۔ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں تلنگانہ کی طرز پر ایک بھی فلاحی اسکیم موجود نہیں ہے۔ تلنگانہ میں خاندانی حکمرانی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ریاستی وزراء نے کہا کہ کے سی آر خاندان نے علحدہ تلنگانہ تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔ وزیراعظم کو خود اس بات کا محاسبہ کرنا چاہئے کہ تلنگانہ سے ناانصافیوں کے سبب کے سی آر نے ان کا استقبال نہیں کیا۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ایک لاکھ سے زائد جائیدادوں پر تقررات کئے گئے اور 80,000 جائیدادوں پر تقررات کا عمل جاری ہے۔ برخلاف اس کے ہر سال دو کروڑ جائیدادیں فراہم کرنے کا مرکز کا وعدہ پورا نہیں ہوا۔ر